🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بيانُ خِيَارِ الأَمَةِ بَعْدَ عِتْقِهَا إِذَا كَانَتْ زَوْجَةَ عَبْدٍ
آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7021
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَةُ فَهِيَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَطَأْهَا إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، جب تک اس کا خاوند اس سے جماع نہ کر لے، اگر وہ چاہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے اور اگر اس نے اس سے جماع کر لیا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور اس کو اس سے جدا ہونے کی طاقت نہیں رہے گی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7021]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سماك بن حرب في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه ابوداود: 2239، وابن ماجه: 2008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23595»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7022
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ
۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا،انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزادی کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ پہلے کسی غلام کی بیوی ہو تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، اگر وہ اسی کے گھر برقرار رہی،یہاں تک کہ اس نے اس سے جماع کر لیا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7022]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16737»

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7023
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ قَالَتْ فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا قَالَتْ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے بریرہ کوآزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ ولاء ان کی رہے گی، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو بیشک اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کی ہوتی ہے، جو چاندی (یعنی قیمت) خرچ کر تا ہے۔ پس میں نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دے، اس نے یہ اختیار قبول کیا، اس کا خاوند آزاد تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7023]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2536، 6758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25880»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری الفاظ اس کا خاوند آزاد تھا اسود راوی کے کلام سے مدرج ہیں، اگر اس کو موصول بھی سمجھ لیا جائے تو کثرت ِ طرق کی بنا پر وہ روایت راجح ہو گی، جس میں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کے غلام ہونے کا ذکر ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2536
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7024
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلُ حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، … یہ حدیث منصور کی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: اور اس کا خاوند غلام تھا، اگر وہ آزاد ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اختیار نہ دیتے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7024]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25881»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1504
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7025
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا قَالَتْ وَكَانَتْ أَيْ بَرِيرَةُ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقْتُهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، بیچ میں ایک بات یہ تھی: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، جب میں (عائشہ) نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے اختیار مل گیا ہے، اگر تو چاہے تو اس غلام کے ماتحت رہ سکتی ہے اور چاہے تو علیحدہ ہو سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7025]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون القول المرفوع في ھذا الحديث، أخرجه ابويعلي: 4436، والبيھقي: 7/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25982»

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون القول المرفوع في ھذا الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7026
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتَبَةً وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح بھی مروی ہے کہ سیدہ بریرہ نے مکاتبت کی ہوئی تھی اور ان کا خاوند غلام تھا، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7026]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26274»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7027
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب بریرہ کو اختیار ملا تو میں نے دیکھا کہ اس کا خاوند مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے تھے، کسی نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بات کی کہ بریرہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بریرہ! یہ تیرا خاوند ہے۔ سیدہ بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اختیار دیا اور اس نے یہ اختیار قبول کر لیا، ان کا خاوند آل مغیرہ کا غلام تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7027]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1844»
وضاحت: فوائد: … لِیُکَلِّمَ فِیْہِ النَّبِیَّV لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، ان الفاظ کی ترکیب صحیح نہیںبن رہی، اگر سنن ابو داود کے الفاظ کو سامنے رکھا جائے معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اصل ترکیب اس طرح یا اس سے ملتی جلتی تھی: قَالَ النَّبِیَّV لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، ہم نے اسی ترکیب کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ جب غلام اور لونڈی شادی والی زندگی گزار رہے ہوں اور لونڈی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اس غلام خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتاہے، جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو یہ اختیار ملا تو انھوں نے جدائی کو ترجیح دی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5283
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں