🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. باب فضل إحسان العِشْرَةِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ مَعَ الزوجة
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7125
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَسَقَيْتُهَا وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک آدمی کے لیے اپنی بیوی کو پانی پلانے میں اجر ہے۔ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پانی پلایا اور پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث اس کو بیان کی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7125]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 646، والبخاري في التاريخ الكبير: 3/ 178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17287»

الحكم على الحديث: صحيح بالشواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7126
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ وَكَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ قَالَ بَلِ اللَّهُ خَلَقَهُ قَالَ فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ قَالَ بَلِ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ قَالَ بَلِ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ قَالَ كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تمہارے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے اپنی شہوت پوری کی، اس میں اجر کیسے ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، پھر وہ بالغ ہوجائے اور تم کو اس سے خیر کی امید بھی ہو، اتنے میں وہ فوت ہو جائے تو کیا تم ثواب کی نیت کے ساتھ صبر کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے اس کو پیدا کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کو ہدایت دی تھی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کو رزق دیا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ تعالی نے اس کو رزق دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح جماع کے ذریعے حلال کو تلاش کر اور حرام سے اجتناب کر، پس اگر اللہ تعالی نے چاہا تو اس کو زندہ رکھے گا اور چاہا تو اس کو فوت کر دے گا اور اس میں تیرے لیے اجر ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7126]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 9027، ورواه مختصرا ابن حبان: 3377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21816»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7127
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ وَتَنَاوَلَهَا أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا يَتَرَضَّاهَا أَنْ تَرَيْنَ أَنِّي قَدْ حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ قَالَ ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْرِكَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَشْرَكْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر آنے کی اجازت طلب کی، ساتھ ہی انھوں نے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلند آواز میں بول رہی تھیں، پس انھوں نے اپنی بیٹی سے کہا: ام رومان کی بیٹی! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے؟پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان حائل ہو گئے، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ کو راضی کرنے کے لیے فرمانے لگے: کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ میں تجھے بچانے کے لیے تیرے اور تیرے باپ کے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہنس رہے تھے، پس انھوں نے اجازت طلب کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے صلح والے ماحول میں بھی داخل کرو، جیسا کہ آپ نے مجھے لڑائی کے ماحول میں داخل کیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7127]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18584»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی کو راضی کر رہے ہیں، اور ایسے کرنے سے بیوی کی بڑی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس میں فرمانبرداری کا جذبہ بڑھ جاتا ہے۔ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، ان کانام زینبیا دعد تھا۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7128
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ فَإِنْ تَحْرِصْ عَلَى إِقَامَتِهِ تَكْسِرْهُ وَإِنْ تَتْرُكْهُ تَسْتَمْتِعْ بِهِ وَفِيهِ عِوَجٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی آرزو کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر تم اس کو چھوڑدو تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7128]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5184، ومسلم: 1468، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9520»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5184
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7129
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تمہارے لیے ایک ہی عادت اور خصلت پر سیدھا نہیں رہ سکتی،یہ پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تواس کو توڑ دو گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاتے رہو گے اور اس میں ٹیڑھ پن موجود رہے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7129]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10868»
وضاحت: فوائد: … عورت کو پسلی سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق میں بھی پسلی کی طرح ایسا ٹیڑھ پن ہوتا ہے، جو کوشش کے باوجود سیدھا نہیں ہوتا، اس لیے اگر خواتین میں مثبت پہلو غالب ہو تو ان کے منفی پہلو کو نظر انداز کر دینا چاہیے، البتہ اچھے انداز میں سمجھانا ضروری ہے

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10868
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7130
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلَعِ تَكْسِرْهَا فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے، اس لیے اس کے ساتھ لطف و نرمی والا سلوک کرو، تاکہ تم اس کے ساتھ زندگی گزارتے رہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7130]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 275، والبزار: 1176، وابن حبان: 4178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20353»
وضاحت: فوائد: … یہ آدمی کا پورا نہ ہونے والا خواب ہو گا کہ اس کی بیوی سو فیصد اس کی خواہشات کی تکمیل کرے، کیونکہ اللہ تعالی نے خواتین میں اتنی اہلیت ہی نہیں رکھی، الا ما شاء اللہ، کسی علاقے میں ایک دو مثالیں ہو بھی سکتی ہیں۔ لہذا خاوند کو عورت کی اس فطرت کو سامنے رکھ کر کچھ صبر کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیدہ حواء علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی تھیں۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7131
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَهِيَ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى عِوَجٍ فِيهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے، اس سے اس ٹیڑھ پن کے باوجود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7131]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 1479، والطبراني في الاوسط: 972، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26916»

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7132
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبِ الرِّيَاحِيِّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ فَجَاءَ يَقُودُ أَوْ يَسُوقُ بَعِيرَيْنِ قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ وَلَا أَبْغَضَ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ قَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ وَمَا يَجْمَعُ هَذَا قَالَ قُلْتُ إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي إِنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي فَقَالَ أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْمَرْأَةِ فَأَمَرَ لِي بِطَعَامٍ فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَهَا فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا قَالَ إِيهَا دَعِينَا عَنْكِ فَإِنَّكُنَّ لَنْ تَعْدُونَ مَا قَالَ لَنَا فِيكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَمَا قَالَ لَكُمْ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ ضِلَعٌ فَإِنْ تَذْهَبْ تُقَوِّمْهَا تَكْسِرْهَا وَإِنْ تَدَعْهَا فَفِيهَا أَوَدٌ وَبُلْغَةٌ فَوَلَّتْ فَجَاءَتْ بِثَرِيدَةٍ كَأَنَّهَا قَطَاةٌ فَقَالَ كُلْ وَلَا أَهُولَنَّكَ إِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يُهَذِّبُ الرُّكُوعَ وَيُخَفِّفُهُ وَرَأَيْتُهُ يَتَحَرَّى أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ ثُمَّ جَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ مَعِيَ فَقُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقُلْتُ مَنْ كُنْتُ أَخْشَى مِنَ النَّاسِ أَنْ يَكْذِبَنِي فَمَا كُنْتُ أَخْشَى أَنْ تَكْذِبَنِي قَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ إِنْ كَذَبْتُكَ كِذْبَةً مُنْذُ لَقِيتَنِي فَقَالَ أَلَمْ تُخْبِرْنِي أَنَّكَ صَائِمٌ ثُمَّ أَرَاكَ تَأْكُلُ قَالَ بَلَى إِنِّي صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ فَوَجَبَ أَجْرُهُ وَحَلَّ لِيَ الطَّعَامُ مَعَكَ
۔ نعیم بن قعنب ریاحی کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، لیکن میں نے ان کو نہ پایا اور ان کی بیوی سے پوچھا، اس نے کہا: وہ اُدھر اپنی جائداد میں ہیں، اتنے میں وہ آگئے دو اونٹوں کو ہانک کر لا رہے تھے، ان میں سے ایک کو دوسرے کے پچھلے حصہ میں باندھ رکھا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن پر ایک مشک تھی، پس انھوں مشکوں کو نیچے اتار ا اور میں نے کہا: اے ابو ذر! مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ سے ملاقات کرنے کی چاہت تھی اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ بھی آپ کی ملاقات ہی تھی، انہوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تیرے باپ کی عمر دراز ہو۔اس نے کہا: جاہلیت میں میں نے بچیاں زندہ درگور کی ہیں، مجھے آپ سے ملاقات کی تمنا اس امید پر تھی کہ آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے کوئی توبہ یا نکلنے کی راہ ہے یا نہیں ہے، اور آپ سے ملاقات میں مجھے ڈر یہ تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زندہ درگو ر دفن کرنا جاہلیت میں تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جو پہلے گزر چکا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، پھر انھوں نے اپنی بیوی کی طرف سر سے اشارہ کیا کہ وہ میرے لئے کھانا لائے، لیکن اس نے توجہ نہ کی، پھر انھوں نے اس کو حکم دیا، لیکن اس نے پھر توجہ نہ کی،یہاں تک کہ ان کے جھگڑنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں،انھوں نے بیوی سے کہا: خاموش ہو جاؤ اور یہاں سے چلی جاؤ، تم اس بات سے قطعاً تجاوز نہیں کر سکتیں، جو تمہارے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمادیا ہے، نعیم کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت ایک پسلی کی مانند ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس کے ٹیڑھا پن کو اس کی حالت پر چھوڑ دو گے تو فائدہ حاصل کرتے رہو گے۔ پھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی بیوی چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد ثرید لے آئی، اس کی لذت ایسی تھی جیسا کہ قطاۃ (کبوتر یا بٹیر کے برابر ایک پرندہ) کے گوشت کی ہوتی ہے، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کھاؤ اور اپنے ساتھ میرے نہ کھانے سے پریشان نہ ہونا، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، پھر وہ خود کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے اور رکوع وغیرہ بہت ہلکے کئے، میرے خیال میں جب انہوں نے اندازہ لگالیا کہ میں سیر ہونے کے قریب ہوں تو وہ آئے اور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا، میں نے اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر افسوس کا اظہار کیا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا اگر کوئی عام آدمی جھوٹ کہتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا، مگر آپ سے جھوٹ کا سرزد ہونا تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا، انھوں نے کہا: تو نے کیا خوب بات کی ہے، جب سے تیری اور میری ملاقات ہوئی ہے میں نے کوئی جھوٹ بولا ہو؟ میں نے کہا: ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ آپ روزہ سے ہوں اور اب میں دیکھتا ہوں آپ نے کھانا شروع کر دیا ہے، اس نے کہا: ضرور ضرور، وجہ یہ ہے کہ میں نے اس ماہ کے تین روزے رکھ لئے ہیں، ایک نیکی دس گنا ہے، لہٰذا ایک ماہ کا اجر ثابت ہوچکا ہے اور تیرے ساتھ کھانا میرے لئے جائز تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7132]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح غير نُعيم بن قعنب، فقد روي له البخاري في الادب والنسائي، ولم يوثقه غير ابن حبان، وروي عنه ھذا الحديث ثلاثة اختلف عليھم، لكن تشھد لقصة المرأة كالضلع ولقصة صيام ثلاثة ايام من الشھر احاديث اخري، أخرجه مختصرا بالمرفوع منه فقط النسائي في الكبري: 9152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21665»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الصحيح غير نُعيم بن قعنب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7133
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمانداروں میں سے سب سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے، جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بہترین ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7133]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه 4682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7396»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7134
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفَهُمْ بِأَهْلِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کامل ترین ایمان والے وہ ہیں جو بہترین اخلاق والے اور اپنی بیویوں پر لطف و کرم کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7134]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 2612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24708»
وضاحت: فوائد: … کسی آدمی کے حسن اخلاق کا سب سے زیادہ علم اس کی بیوی کو ہوتا ہے، آج کل لوگ باہر کے دوستوں اور یاروںسے وفا کرنے میں ہی مصروف رہتے ہیں، دوست ایک آدمی کی بڑی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اگر اس کی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اس کے حق میں ایک جملہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتی،یہ اچھے لوگوں کا رویہ نہیں ہے، کسی آدمی کے اخلاق کے اچھایا برا ہونے کی شہادت اس کی بیوی دے گی۔
عملی طور پر بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ شام کا کھانا کھا کر اپنے دوستوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور رات ایک دو بجے واپس آتے ہیں، اس وقت بیوی بچے گہری نیند سوچکے ہوتے ہیں، پھر جب صبح کے وقت بیوی بچے اٹھتے ہیں اور بیوی بچوں کو تیار کر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتی ہے تو اس وقت گھر کا سربراہ سویا ہوا ہوتا ہے، یہ راہِ اعتدال سے منحرف رویہ ہے اور اس طرح سے گھر کے افراد کی اچھی تربیت نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں