🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ عدم وقوعِ الطَّلَاقِ مِنَ النَّائِمِ وَالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونَ وَبِحَدِيثِ النَّفْسِ
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7169
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ( (رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ) ) ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد مرفوع القلم ہیں(یعنی گناہ کی سزا سے بری ہیں): ایک نابالغ بچہ، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، دوسرا سویا ہوا شخص، جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے اور تیسرا پاگل شخص، جب تک اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7169]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه ابوداود: 4398، والنسائي: 6/ 156، وابن ماجه: 2041،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25201»
وضاحت: فوائد: … امام ابن حبان نے کہا: مرفوع القلم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے واقع ہونے والا شرّ نہیں لکھا جاتا، نہ کہ خیر (یعنی اگر بچہ اور پاگل نیکی کاکام کریں تو ان کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے)۔

الحكم على الحديث: اسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (تُجُوِّزَ (وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ) لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ) ) ۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے(افراد کے دل میں آنے والے فاسد) خیالات اور دلی وسوسوں سے تب تک در گزر فرمایا ہے، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یاانہیں زبان پر نہ لا یا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7170]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2528، 6664، و مسلم: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7464»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر طلاق کا وسوسہ یا خیال پیدا ہو جائے، لیکن اس کا زبان سے اظہار نہ کیا جائے تو وہ واقع نہیں ہو گی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2528
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں