الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ وُجُوبِ نَفْقَةِ الزَّوْجَةِ بِاعْتِبَارِ حَالِ الْزَوج وَأَنَّهَا مُقَدَّمَةٌ عَلَى الْأَقَارِبِ وَ ثَوَابِ الزَّوْجِ عَلَيْهَا
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
حدیث نمبر: 7256
عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ ابْنُ مَوْلَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ هَذَا الشَّهْرَ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَاتْرُكْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ
۔ وہب بن جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے ان کے ایک غلام کے بیٹے نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ماہِ رمضان یہاں بیت المقدس میں گزاروں۔ انہوں نے کہا: کیا تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اس ماہ مبارک کی خوراک چھوڑ آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: تو پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جا اور ان کی خوراک کا بندوبست کر کے آ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے، ان کو ضائع کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7256]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2281، والبيھقي: 7/ 467، وأخرجه مختصرا ابوداود: 1692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6842»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑا اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر علمائ، خطباء اور مبلغین حضرات کے لیے، کیونکہ بسا اوقات آدمی افراط و تفریط میں اس طرح مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ ایک فرض کو اتنی زیادہ اہمیت دے دیتا ہے کہ دوسرے فرائض سے مکمل طور پر غافل ہو جاتا ہے، بیوی بچوں اور والدین کی خدمت بھی دوسرے فرائض و واجبات کی طرح انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7257
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَدِينَارٌ فِي الْمَسَاكِينِ وَدِينَارٌ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ فِي أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الدِّينَارُ الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وہ دینار جسے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے،ایک وہ دینار جسے تو مسکینوں پر خرچ کرتا ہے،ایک وہ دینار جسے تو گردن آزاد کرنے پر خرچ کرتا ہے اور ایک وہ دینار جسے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، ان سب میں سے اجر کے لحاظ سے وہ دینار بڑھ کر ہے، جسے تونے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10123»
وضاحت: فوائد: … آج کل اکثر راہِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر اور رسم و رواج میں پڑ کر بڑے بڑے اخراجات برداشت کر لیے جاتے ہیں، جبکہ گھروں میں بیوی بچے اہم ضروریات کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 995
حدیث نمبر: 7258
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ أَنْتَ أَبْصَرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی ذات پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دنیار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا: ایک اور دینار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو خود اپنی بصیرت کی روشنی میں فیصلہ کر لے (کہ کون زیادہ مستحق ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7258]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي،أخرجه ابوداود: 1691، والنسائي: 5/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7413»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 7259
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7259]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1850، والترمذي: 2192، 2424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20262»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7260
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّكَ تُؤْجَرُ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةِ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جتنا بھی (رضائے الٰہی کے لیے) اپنی بیوی پر خرچ کرو گے، تمہیں اس کا اس پر اجر ملے گا حتیٰ کہ وہ لقمہ بھی، جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7260]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2744، ومسلم: 1628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1480»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2744
حدیث نمبر: 7261
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جب ثواب کی نیت سے اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7261]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 55، 4006، 5351، ومسلم: 1002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17210»
وضاحت: فوائد: … بیوی پر خرچ کرنا محض کوئی بوجھ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف سے عائد ہونے والا حق ہے، اس کو اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے، حسب ِ استطاعت اور عرف اور معاشرے کے مطابق بیوی کے لباس، خوراک اور خوشی غمی کا خیال رکھنا چاہیے اور اس کو اس پر خرچ کیے ہوئے کا احسان بھی نہیں جتلانا چاہیے، جواباً بیوی کو خاوند کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 55