الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ وَحِمَارِ الْوَحْشِ
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
حدیث نمبر: 7285
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خچر اور گدھے سے تو منع کر دیا، لیکن گھوڑے کا گوشت کھانے سے منع نہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7285]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14901»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 7286
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے اورجنگلی گدھے کا گوشت کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7286]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1941، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14504»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1941
حدیث نمبر: 7287
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ نَحَرْنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَا مِنْهُ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7287]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5510، ومسلم: 1942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27458»
وضاحت: فوائد: … گدھے اور خچر کا معاملہ تو واضح اور اتفاقی ہے کہ پہلے وہ حلال تھے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حرام قرار دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5510