🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب مَا جَاءَ فِي الْمَيْتَةِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ
مرد اور خنزیر کے گوشت کی حرمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7346
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ قَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ جَمَلُوهَا ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کوحرام قرار دیا ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے، کیونکہ اس کے ساتھ کشتیوں اور چمڑوں کو وارنش کیا جاتا ہے اور لوگ چراغوں میں بھی اس کو جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کھا گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2236، 4296، 4633، ومسلم: 1581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14526»
وضاحت: فوائد: … مردار اور خنزیر کا حکم واضح ہے، دونوں حرام ہیں اور جو چیز حرام ہوتی ہے، اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2236
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں