الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ بَرْكَةِ الْاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
اجتماعی کھانے میں برکت ہے
حدیث نمبر: 7369
عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ قَالَ فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ اجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ
۔ وحشی بن حرب اپنے باپ سے اوروہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: ہم کھانا کھاتے ہیں، لیکن سیر نہیں ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تم جدا جدا ہوکر کھاتے ہو، اکٹھا ہو کر کھانا کھایا کرو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرو، تمہارے لیے برکت ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7369]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده، أخرجه ابوداود: 3764، وابن ماجه: 3286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16176»
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده
حدیث نمبر: 7370
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاثْنَيْنِ يَكْفِي لِأَرْبَعَةٍ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہے، دو افراد کا کھانا چار کے لیے کافی ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7370]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14271»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2059
حدیث نمبر: 7371
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7371]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5392، ومسلم: 2058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7318»
وضاحت: فوائد: … برکت کا معاملہ غیر محسوس انداز میں ہوتا ہے، ہمیں چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بہر صورت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر حدیث برحق اور حقیقت کے عین مطابق ہے، زندگی میں جس کا واسطہ احادیث سے پڑا اسے عملی طور پر ان کی حقانیت کا تجربہ بھی ہو گیا۔ مذکورہ بالا حدیث پر سب سے زیادہ اعتقاد اس کو ہو گا جو حدیث پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہو، حدیث کو عقلی فیصلے پر ترجیح دیتا ہو، خورد و نوش کو مقصدِ زندگی نہ سمجھتا ہواور برکتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہو، نہ کہ نوع بنوع کھانوں کی طرف۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5392