الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ الْأَمْرِ بِأَخْذِ مَا تُسَاقِطْ مِنَ اللُّقَيْمَاتِ وَلَعْقِ الأَصَابِع بَعْدَ إِنْتِهَاءِ الْأَكْلِ وَمَا جَاءَ فِي لَحْسِ الْقَصْعَةِ وَاسْتِغْفَارِهَا لِلْآكِلِ
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7416
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا وَلْيَمْسَحْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ سے لقمہ گر پڑے تو وہ اسے اٹھائے اور اس کے ساتھ لگی ہوئی چیز صاف کرکے اسے کھا لے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7416]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11986»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2035
حدیث نمبر: 7417
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ فِي الْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ وَفِي لَفْظٍ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَمُصَّهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے سے فارغ ہو تو رومال کے ساتھ اس وقت تک ہاتھ صاف نہ کرے، جب تک اسے چاٹ یا چٹوا نہ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ اپنے ہاتھ اس وقت تک صاف نہ کرے جب تک کہ انہیں چوس نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7417]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14270»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2033
حدیث نمبر: 7418
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ ذَلِكَ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَرْفَعُ الصُّحَيْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ الْبَرَكَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھائے تو اپناہاتھ صاف نہ کرے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: رومال کے ساتھ صاف نہ کرے یہاں تک کہ انہیں چاٹ لے یا چٹوا لے۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: پیالہ اٹھانے سے پہلے ہاتھوں کوچاٹے یا چٹوائے، کیونکہ کھانے کے آخری حصہ میں برکت ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7418]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 3253، والنسائي في الكبري: 6767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2672»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 7419
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ ثُمَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ
۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمااپنی انگلیاں چاٹا کرتے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کھانے کے کون سے حصہ میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7419]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 2885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4514»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7420
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقَنَّ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو ضرورضرور اپنی انگلیوں کوچاٹے، کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کی کون سی انگلی میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7420]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9358»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2035
حدیث نمبر: 7421
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنَ الطَّعَامِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تین انگلیوں کو کھانا کھانے کی وجہ سے چاٹا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7421]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15859»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2032
حدیث نمبر: 7422
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ فَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اوراپنے ہاتھ کو صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7422]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27709»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27709
حدیث نمبر: 7423
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ فَقَالَ لَنَا حَدَّثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ
۔ سیدنا نبیشہ الخیر ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب ام عاصم نے کہا کہ ہم ایک پیالہ میں کھا رہے تھے کہ یہ نبیشہ ہذلی ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ جو آدمی پیالہ میں کھائے اور پھر اسے (انگلی سے یا چاٹ کر) صاف کرتا ہے تو وہ پیالہ اس کے لیے بخشش طلب کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7423]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ام عاصم جدة ابي اليمان المعلي، أخرجه ابن ماجه: 3271، 3272، والترمذي: 1804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21001»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال ام عاصم جدة ابي اليمان المعلي
حدیث نمبر: 7424
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ قِيلَ وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ قَالَ فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطاء سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلال والے کتنے ہی اچھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا وہ خلال والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7424]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، واصل الرقاشي و ابو سورة مجمع علي تضعيفھما، وابوسورة لا يعرف له سماع من ابي ايوب، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 12، وعبد بن حميد: 1271، والطبراني في في الكبير: 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23924»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط: ۱/۳۹ـ، صحیحہ:۲۵۶۷)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا