الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ الخَمْرُ وَتَحْرِيمُهُ وَأَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍحَرَامٌ
وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
حدیث نمبر: 7548
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہرفتور پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: ومفتِر وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه ابوداود: 3686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27169»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره دون قوله: ومفتِر وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 7549
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْمُزَفَّتَةُ قَالَ الْمُقَيَّرَةُ قَالَ قُلْتُ فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ قَالَ مَا بَأْسَ بِهِمَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا قَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ
۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے برتنوں میں مشروب پینے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تارکول والے برتن سے منع کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: کچ اور شیشے کے برتن کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کہا: کچھ لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے، اسے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک کہ شک ختم نہ ہو جائے اور بے شک ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد اگر ایک دو گھونٹ پی لیں تو؟ انہوں نے کہا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کر دے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے، شراب انگور سے ہوتی ہے، کھجور سے ہوتی ہے، شہد سے ہوتی ہے، گندم سے ہوتی ہے، جو سے ہوتی ہے، مکئی سے ہوتی ہے، ان میں سے جو بھی تو شراب بنائے گا، یہ وہ شراب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 8/ 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12123»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 7550
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ قَالَ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ قَالُوا فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ
۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سعان، أخرجه ابويعلي: 7147، والطبراني في الكبير: 23/ 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27952»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج بن سعان
حدیث نمبر: 7551
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ فَإِنَّهَا ثُلُثُ خَمْرِ الْعَالَمِ
۔ قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے رب نے میرے اوپر شراب، ڈھولک بجانا اور رومیوں والا جوا کھیلنا حرام کیا ہے اور غبیراء سے بچو، (یہ غبیراء جو گندم اور جو سے تیار کی جاتی ہے) یہ پوری دنیا کی شرابوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «حسن لغير دون قوله: فانھا ثلث خمر العالم وھذ اسناد ضعيف، بكر بن سوادة لم يدرك قيس بن سعد، وعبيد الله بن زحر الضمري مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/197، والبيھقي: 10/ 222، والطبراني في الكبير: 18/ 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15560»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِجْتَنِبُوْا الخَمْرَ، فَإِنَّھَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی بنیاد ہے۔ (حاکم: ۴/ ۱۴۵، صحیحہ: ۲۷۹۸)
الحكم على الحديث:
حسن لغير دون قوله: فانھا ثلث خمر العالم وھذ اسناد ضعيف
حدیث نمبر: 7552
عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ
۔ سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہماری سر زمین ٹھنڈک والی ہے اور ہماری محنت بہت سخت ہے، ہم گندم سے ایک شراب تیار کرتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم قوت حاصل کرتے ہیں تاکہ عملی مشقت اور علاقے کی ٹھنڈک پر قابو پائیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے کہا: جی وہ نشہ آور تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے اجتناب کرو اور اسے نہ پیو۔ میں سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہی سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بچو۔ میں نے کہا: لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18198»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7553
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جیشان کا ایک آدمی آیا، جیشان یمن کا علاقہ ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شراب کے متعلق دریافت کیا، جسے وہ پیتے تھے، وہ ان کے ہاں تیار کی جاتی تھی، اس کا نام مزر تھا، وہ مکئی سے تیار کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ جونشہ آور چیز پیے گا، وہ اسے طینہ الخبال سے پلائے گا۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے یا ان کے زخموں سے بہنے والا مادہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14941»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2002
حدیث نمبر: 7554
عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ شَرَاحْبِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَمَّا سِرْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ
۔ شراحبیل بن بکیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: میرے مصر میں کچھ رشتہ دار رہتے ہیں، وہ انگور سے شراب تیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی یہ کام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: یہودیوں کی طرح کی روش اختیار نہ کرو، ان پر چربی حرام قرار دی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کیااور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ میں نے کہا: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے، جو انگور کا ایک گچھا لیتا ہے اور اسے نچور کر پی لیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب میں چلا تو انھوں نے کہا: جس چیز کا پینا حلال ہے، اس چیز کا فروخت کرنا بھی حلال ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «اثر حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16163»
وضاحت: فوائد: … شراب کے موضوع پر اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میں انتہائی اہم قوانین بیان کیے گئے ہیں اور شریعت کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے، شراب اس وجہ سے حرام نہیں ہے کہ وہ انگور سے بنائی جاتی ہے یا گندم سے یا کسی اور چیز سے، بلکہ اس کی حرمت کا سبب اس کی صفت ِنشہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اثر حسن