الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ الرِّفْقِ بِالذَبِيحَةِ وَالْإِجْهَازِ عَلَيْهَا، وَحَدٌ السُّفْرَةِ وَتَرْكِ ذَاتِ الدَّرُ وَالنَّسل
ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7602
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو چیزیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، پس جب تم کسی کو ضرورت کے تحت قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح کا اچھا انداز اختیار کرو، اپنی چھری تیز رکھو اور اپنے ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7602]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17246»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7603
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا اور اس کو جانورں سے اوجھل رکھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو جلدی جلدی ذبح کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7603]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه ابن ماجه: 3172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5864»
وضاحت: فوائد: … جلدی ذبح کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کو خواہ مخواہ کی تکلیف ہوتی رہے، مثلا جانور کو دیر تک لٹائے رکھنا، گلہ کاٹنے کے لیے چھری بہت آہستہ چلانا، ذبح کے ماہرین اس مسئلہ کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7604
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ وَمَا حَقُّهُ قَالَ يَذْبَحُهُ ذَبْحًا وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا کو بغیر حق کے ذبح کیا اس سے روز قیامت اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کسی نے پوچھا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا جائے اور اس کی گردن اس طرح نہ پکڑی جائے کہ وہ مکمل کٹ جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7604]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة صھيب الحذاء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6861»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر ذبح کے دوران مکمل گردن کٹ بھی جائے تو اس سے جانور کی حلت متاثر نہیں ہوتی اور اس پر کراہت یا حرمت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7605
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَأَنَا أَرْحَمُهَا أَوْ قَالَ إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا فَقَالَ وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بکری ذبح کرتاہوں اور مجھے اس پر ترس آتا ہے کہ میں اسے ذبح کر رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرتا ہے تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7605]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 231، والبزار: 1221، والطبراني في الكبير: 19/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15677»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7606
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَمِدْتُ إِلَى عَنْزٍ لِأَذْبَحَهَا فَثَغَتْ فَسَمِعَ ثَغَاءَهَا فَقَالَ يَا جَابِرُ لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ عَتُودَةٌ عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے آواز نکالی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آواز سن لی اور فرمایا: اے جابر! دودھ اور نسل والی بکری ذبح نہ کرنا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بکری چھوٹی ہے، میں نے اسے کچی اورترکھجوریں چارہ ڈال کر موٹا تازہ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7606]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن سلمة وابوه مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15339»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جانور کے لیے مشکل ترین مرحلہ ذبح کا ہوتا ہے، لیکن حتی الوسع ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس کو کم سے کم تکلیف ہو۔
الحكم على الحديث: ضعیف