الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَّى وَعَلاجها
بخار اور اس کے علاج کا بیان
حدیث نمبر: 7643
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى وَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ وَلْيَسْتَقْبِلْ نَهَرًا جَارِيًا يَسْتَقْبِلُ جَرْيَةَ الْمَاءِ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَيَغْتَمِسُ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهُ لَا يَكَادُ يُجَاوِزُ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو وہ اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ بجھائے، کیونکہ یہ دوزخ کی آگ کا ٹکڑا ہے اورجاری نہر میں چلا جائے اور پانی کے چلاؤ کی طرف رخ کرے اور یہ پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ وَصَدِّقْ رَسُولَکَ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا دے اور اپنے رسول کی تصدیق فرما) نماز فجر کے بعد اور طلوع آفتاب سے پہلے اس طرح نہائے اور اس میں تین غوطے لگائے، تین دن یہی عمل دہرائے، اگر تندرست نہ ہو تو پانچ دن ایسا کر لے اور اگر پانچ دن میں صحت یاب نہ ہو تو سات دن ایسا کرے اور اگر اتنے دنوں میں بھی صحت نہ پائے تو نو دن ایسا کرے، اللہ کے حکم سے بخار نو دنوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7643]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن زرعة الشامي، أخرجه الترمذي: 2084، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22789»
وضاحت: فوائد: … وقت اور دنوں کے تعین کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے:
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن زرعة الشامي
حدیث نمبر: 7644
عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ عَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا قَالَتْ فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَنْتِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ لَا مَرْحَبًا بِكِ وَلَا أَهْلًا أَتَهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اجازت طلب کی، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اجازت طلب کی، وہ پھرخاموش رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے، ام طارق کہتی ہیں: مجھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کروں کہ ہم نے آپ کو اجازت صرف اس لیے نہیں دی کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں سلام کی برکات سے مزید نوازتے رہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر آواز سنی کہ کوئی اجازت طلب کر رہاہے، لیکن میں اسے دیکھ نہیں رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں ام ملدم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کوئی مرحبا نہیں ہے، تجھے کوئی خوش آمدید نہیں ہے، کیا تو قباء والوں کے پاس نہیں چلا جاتا؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف چلا جا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7644]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة جعفر بن عبد الرحمن النصاري، أخرجه الطبراني في الكبير: 25/ 349، والبيھقي في دلائل النبوة: 6/ 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27668»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة جعفر بن عبد الرحمن النصاري