🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. الْعَوَةُ وَالْكَمْأَةُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَمَنَافِعُهَا
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7679
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفَسِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بالائی علاقہ والی عجوہ کھجور کے بارے میں فرمایا: صبح صبح نہار منہ یہ کھجور کھانا ہر جادو اور زہر کے لئے تریاق ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7679]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25242»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25242
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7680
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ السَّلْوَى) وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
۔ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی مَن (اور ایک روایت کے مطابق سلویٰ) میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7680]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4478، ومسلم: 2049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1625»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4478
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7681
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَمْأَةٌ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
۔ (دوسری سند) سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں کھمبی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ مَن میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7681]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1634»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1634
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7682
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ الْمَوْتُ وَهِيَ الشُّونِيزُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر کھایا کرو، اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔ امام سفیان نے کہا: سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7682]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5699، ومسلم: 2215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7285»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5699
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7683
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلونجی کے بارے میں فرمایا: اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے، ما سوائے سام کے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!سام کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7683]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7548»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7548
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7684
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ يَعْنِي الْمَوْتَ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر استعمال کیا کرو، اس میں سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔ سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز یعنی کلونجی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7684]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25581»
وضاحت: فوائد: … عجوہ کھجور کی خاصیات کے بارے میں مختلف تحقیقات پیش کی جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث پر یقین رکھ کر کھائے گا۔ عام طور پر کھجور میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، کیلوریز، سوڈیم، منگنیشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر اور کلورین پایا جاتا ہے۔ یہ سستی ٹانک ہے، عجوہ کھجور نہار منہ زہروں کا تریاق ہے، قولنج کو فائدہ دیتی ہے، گردے اور رحم کے دردوں میں مفید ہے، روزانہ سات عجوہ کھجوریں کھانا کوڑھ سے شفا کا سبب بنتا ہے، دل کے دورے میں سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانی چاہئیں۔ یہ جسم کے ہر حصے کے لیے یکساں مفید ہے، اس کی سکنجبیں اور اس کے ساتھ بادام اور خشخاش کھانا بہت فائدہ دیتا ہے۔ زخموں کو مندمل کرتی ہے، اسہال دور کرتی ہے، یرقان کے لیے اکسیر ہے، پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے، اس سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں، کھجور کے ساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔ علاوہ ازیں یہ کئی فوائد اور خاصیات پر مشتمل ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5687
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں