🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بابُ مَا تُعَالَجُ بِهِ الْجُرُوحُ وَالْبُشُورُ
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7694
عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَأَخَذَ حَصِيرًا فَأَحْرَقَهُ فَحَشَا بِهِ جُرْحَهُ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخموں کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے خون دھوتی تھیں اور ایک چٹائی لے کر اسے جلا کر اس کی راکھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زخم بھرا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7694]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 243، 3037، ومسلم: 1790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23185»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ زخم لگے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 243
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7695
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْرَقَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُهُ عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِوَجْهِهِ قَالَ وَأُتِيَ بِتُرْسٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَتْ عَنْهُ الدَّمَ
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو احد کے دن دیکھا کہ انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلا کر اس کی راکھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے مبارک کے زخم بھرے اور ڈھال میں پانی لایا گیا تھا، اس سے انھوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون صاف کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7695]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23217»
وضاحت: فوائد: … راکھ سے زخم جلد خشک ہو جاتا ہے اور خون رک جاتا ہے، اب بھی دیہاتوں میں جسم پر لگنے والے کٹ پر راکھ لگا دی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7696
عَنْ مَرْيَمَ ابْنَةِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا عَلَى بَثْرَةٍ بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبِيرِ وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ أَطْفِهَا عَنِّي فَطُفِئَتْ
۔ صحابی رسول سیدنا ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ کی بیٹی مریم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ذریرہ خوشبو ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ منگوائی اور اسے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان نکلنے والے چھالے پر لگا کر یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئَ الْکَبِیرِ وَمُکَبِّرَ الصَّغِیرِ أَطْفِہَا عَنِّی (اے اللہ! بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے، اسے بجھا دے۔) پس وہ چھالہ وہیں بجھ گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7696]
تخریج الحدیث: «رواته من احمد الي منتھاه من رواة الصحيحين الا مريم بنت اياس بن البكير، وقد اختلف في صحبتھا، وأبوھا وأعمامھا من كبار الصحابة، ولأخيھا محمدٍ رؤية، أخرجه الحاكم: 4/ 207، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 1031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23529»
وضاحت: فوائد: … ذریرہ: یہ ایک خوشبو دار پاؤڈر ہوتا ہے، جو کئی چیزوں کا مرکب ہوتا ہے، اس کو زخموں پر بھی چھڑکا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
رواته من احمد الي منتھاه من رواة الصحيحين الا مريم بنت اياس بن البكير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں