الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى
دم کے الفاظ کا بیان
حدیث نمبر: 7725
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي اشْتَكَيْتُ فَقَالَ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: ہم سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں بیمار ہوں، جواباً سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور کریں، انھوں نے کہا: تو پھر یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے اللہ! جو لوگوں کا رب ہے! اے تکلیف دور کرنےوالے! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں کوئی شفاء دینے والا مگر تو ہی، شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7725]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12560»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5742
حدیث نمبر: 7726
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ فَتَفَلَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ وَيَقُولُ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَقَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ
۔ سیدنا محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں تجھے حبشہ کی سرزمین میں لے گئی، واپس آرہی تھی، جب مدینہ کا سفر ایک دورات کا باقی رہ گیا تو میں نے تیرے لئے کھانا پکایا، ایندھن ختم ہوا تو میں اس کی تلاش میں نکلی، اُدھر تو نے ہنڈیا پکڑی جو تیرے بازو پر الٹ کر گر گئی اور بازہ جل گیا، میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! یہ محمد بن حاطب ہے، اس کا بازو زخمی ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے منہ میں لعاب ڈالا اور تیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور تیرے لئے دعا کی اور تیرے ہاتھوں پر بھی تھوک کی پھوہار ڈالی اور فرمایا: أَذْہِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے تو ہی شافی ہے، نہیں ہے شفا، مگر وہ شفاء جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفاء عطاء کر جو بیماری نہ چھوڑے۔) میری ماں کہتی ہیں: میں ابھی آپ کے پاس سے تجھے لے کر کھڑی نہیں ہوئی تھی کہ تیرا ہاتھ درست ہوچکا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7726]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الرحمن بن عثمان بن ابراهيم ضعيف الحديث، أخرجه ابن حبان: 2977، والحاكم: 4/ 62، والطيالسي: 1194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15532»
الحكم على الحديث: مرفوعه صحيح
حدیث نمبر: 7727
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ انْصَبَّتْ عَلَى يَدِي مِنْ قِدْرٍ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي قَالَ وَكَانَ يَتْفُلُ
۔ (دوسری سند) سیدنا محمد بن حاطب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بازو پر ہنڈیا میں سے کوئی چیز گر گئی، میری ماں مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر دم کیا: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی (اس تکلیف کو دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلے ہوئے ہاتھ پر تھوک کی پھوہار سی ڈالتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7727]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15531»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 7728
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے میری ماں وادی ٔ بطحاء میں موجود ایک آدمی کے پاس لے گئی، یہ مکہ کی ایک وادی ہے، اس آدمی نے کچھ پڑھا اور پھوہار سی مار کر دم کیا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تھا تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا (جس نے مجھے دم کیا تھا)؟ انہوں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7728]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15533»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي
حدیث نمبر: 7729
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي كُلِّ مَسْحَةٍ) قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ
۔ سیدنا عثمان بن ابو عاص بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، مجھے اتنا شدید درد تھا کہ قریب تھا کہ وہ مجھے ہلاک کردے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس درد والی جگہ پر اپنا دایاں ہاتھ سات مرتبہ پھیرا اور ساتھ ہی ہر بار یہ دعا پڑھ: أَعُوذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ (میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں۔) میں نے ایسے ہی دم کیا اورمجھے جو تکلیف تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو دور کردیا، پھر میں اپنے گھر والوں اور دوسرے لوگوں کو ہمیشہ دم کا یہ طریقہ سکھلاتا رہا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7729]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16274 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16383»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2202
حدیث نمبر: 7730
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ دیا کرتے تھے: أُعِیذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ۔ (میں تم کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان،ہر نظر بد اور زہریلی چیز سے) نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹوں سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور سیدنا اسحق علیہ السلام کو ان کلمات کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ کی پنا میں دیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7730]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2112»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3371
حدیث نمبر: 7731
عَنْ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ أَلَمًا فَلْيَضَعْ يَدَهُ حَيْثُ يَجِدُ أَلَمَهُ ثُمَّ لِيَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو تکلیف ہو تو جہاں تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھے پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: أَعُوذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ۔ (میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کے ساتھ ہر اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، جس کو میں پاتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7731]
تخریج الحدیث: «صحيح لكن من حديث عثمان بن ابي العاص، انظر الحديث رقم 1844، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي معشر، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27721»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بہت ساری دعاؤں کا ذکر ہے، جن کے ذریعے دم کیا جاتا ہے، ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے، مزید دعائیں اور قرآن مجید کی آیات اور سورتیں ان کے علاوہ ہیں۔
الحكم على الحديث: صحيح لكن من حديث عثمان بن ابي العاص