الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي ثُبُوتِهَا
متعدی بیماری کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 7762
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُورَدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیمار آدمی کو صحت مند آدمی کے پاس داخل نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7762]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5770، 5771، ومسلم: 2221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9252»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5770
حدیث نمبر: 7763
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُدِيمُوا إِلَى الْمَجْذُومِينَ النَّظَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7763]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2075»
وضاحت: فوائد: … جذام سے مراد کوڑھ ہے، یہ ایسی بیماری ہے، جس میں اعضائے جسم الگ ہو کر گرنے لگتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7764
عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قِيدَ رُمْحٍ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالو اور جب تم ان سے کلام کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ ہونا چاہئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فرج بن فضالة ضعّفه غير واحد، وقد وقع فيه اضطراب، انظر الحديث السابق، أخرجه الطبراني: 2897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 581»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا پہلا حصہ سابق حدیث کی بنا پر صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7765
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مَجْذُومٌ مِنْ ثَقِيفٍ لِيُبَايِعَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ائْتِهِ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ بَايَعْتُهُ فَلْيَرْجِعْ
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنو ثقیف میں سے ایک کوڑھ زدہ آدمی آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک جذام زدہ آدمی آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہے، آپ نے فرمایا: تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میں نے اس کی بیعت قبول کرلی ہے، وہ وہیں سے واپس چلا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7765]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19697»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ جب لوگ اس سے گھن محسوس کریں گے تو اس کو خواہ مخواہ تکلیف ہو گی، اس لیے اس کو راستے سے ہی واپس کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2231
حدیث نمبر: 7766
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوڑھ کے مریض سے اس طرح فرار اختیار کرو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7766]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 320، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 139، و علقه في صحيحه: 5707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9720»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی بھی کی گئی ہے اور اسے ثابت بھی کیا گیا ہے، ان احادیث میں جمع وتطبیق کی صورت درج ذیل ہے:
الحكم على الحديث:
حديث صحيح