🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ مَا جَاء فِي آلَةِ اللَّهْوِ وَ الْقَيْنَاتِ وَشُرْب الْخَسرِ
لہو کے آلات، گانے والیوں اور شراب کے پینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7893
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنِ الطَّرِيقِ وَهُوَ يَقُولُ يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ فَأَقُولُ نَعَمْ فَيَمْضِي حَتَّى قُلْتُ لَا فَوَضَعَ يَدَيْهِ وَأَعَادَ رَاحِلَتَهُ إِلَى الطَّرِيقِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7893]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4965»
وضاحت: فوائد: … ایک بانسری کی آواز سے بچنے کے لیے نبی ٔ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صحابہ نے انداز اختیار کیا اور ہم الیکٹرانک میڈیا کے بہانے کن کن چکروں میں پڑھ چکے ہیں، صرف بچوں کے کارٹونوں کے بہانے ہمارے گھروں میں انتہائی ناپسندیدہ آوازیں اٹھ رہی ہوتی ہیں، شادیوں پر تو ہم بے غیرتی اور بے حسی کی انتہا کر دیتے ہیں، کیا بنے گا ہمارا؟

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7894
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَتَعْرِفِينَ هَذِهِ قَالَتْ لَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَعْطَاهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم اس کو پہچانتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بنو فلاں کی گانے والی لونڈی ہے، کیا تم پسند کرو گی کہ یہ گائے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک تھال سا دیا، اس پر اس نے گایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7894]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي في الكبري: 8960، والطبراني في الكبير: 6686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15811»
وضاحت: فوائد: … شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے اسی وجہ سے اس نے اس کو عادت بنا لی ہے، رہا مسئلہ کبھی کبھار، تو وہ جائز ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دینے اور اس گانے والی کی مذمت کرنے میں کوئی تضاد نہیں ہے، ذہن نشین کر لیں کہ اجازت دینے کا تعلق بعض اوقات سے ہے، جائز کلام سے ہے اور بے پردگی سے بچنے کی صورت سے ہے اور مذمت کا تعلق عادت سے ہے، بے ہودہ اور گندے کلام سے ہے اور بے پردگی سے ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7895
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ وَأَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِيرِ وَالْأَوْثَانِ وَالصُّلُبِ وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَحَلَفَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفُورًا لَهُ أَوْ مُعَذَّبًا وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا ضَعِيفًا مُسْلِمًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفُورًا لَهُ أَوْ مُعَذَّبًا وَلَا يَتْرُكُهَا مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَحِلُّ بَيْعُهُنَّ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا تَعْلِيمُهُنَّ وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ وَفِي رِوَايَةٍ وَأَكْلُ أَثْمَانِهِنَّ حَرَامٌ يَعْنِي الضَّارِبَاتِ وَفِي رِوَايَةٍ الْمُغَنِّيَاتِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لئے رحمت و ہدایت بناکر بھیجا ہے اور مجھے آلات موسیقی، بانسریاں، بت، صلیب اور جاہلیت کے کام مٹانے کا حکم دیا اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر کہا کہ کوئی بھی میرا بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پئے گا، تو وہ اسے روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، یہ الگ بات یہ ہے کہ اس کو بخشا جائے یا عذاب دیا جائے، اگر وہ چھوٹے اور ضعیف مسلمان بچے کو پلائے گا، تو وہ اس کو بھی روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، یہ الگ بات یہ ہے کہ اسے بخشا جائے یا عذاب دیا جائے اور جو بھی میرے خوف سے اسے پینا چھوڑ دے گا، میں اسے روز قیامت قدس کے حوض سے پلاؤں گا، ان چیزوں کی خرید وفروخت، ان کی تعلیم اور تجارت حلال نہیں اور گانے والیوں کی قیمت حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7895]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة التنوخي ضعيف،وعلي بن يزيد الالھاني ضعيف بمرة، أخرجه الطيالسي: 1134، والطبراني: 7803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22663»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7896
حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ قَالَ أَتَيْتُ فَرْقَدًا يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ خَالِيًا فَقُلْتُ يَا ابْنَ أُمِّ فَرْقَدٍ لَأَسْأَلَنَّكَ الْيَوْمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكَ فِي الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ أَشَيْءٌ تَقُولُهُ أَنْتَ أَوْ تَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا بَلْ آثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَمَنْ حَدَّثَكَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَحَدَّثَنِي بِهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَبِيتُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَلَهْوٍ وَلَعِبٍ ثُمَّ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ فَيُبْعَثُ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَائِهِمْ رِيحٌ فَتَنْسِفُهُمْ كَمَا نَسَفَتْ مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْخُمُورَ وَضَرْبِهِمْ بِالدُّفُوفِ وَاتِّخَاذِهِمْ الْقَيْنَاتِ
۔ جعفر کہتے ہیں: میں فرقد بن یعقوب کے پاس آیا، جب میں نے انہیں تنہا پایا تو کہا: اے ام فرقد کے بیٹے! آج میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کروں گا، وہ یہ ہے کہ مجھے زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے کے بارے میں مطلع کرو، یہ تم خود کہتے ہو یانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں خود یہ نہیں کہتا، میں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتا ہوں، میں نے کہا: یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ مجھے عاصم بن عمرو بجلی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے اور سیدنا ابو امامہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی ہے اور مجھ سے قتادہ نے سعید بن مسیب سے بیان کی ہے اور مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ کھانے پینے اور کھیل کود میں رات گزارے گا، جب صبح ہو گی تو وہ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے، ان کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ پر ہوا بھیجی جائے گی، وہ انہیں اس طرح نیست و نابود کردے گی، جس طرح ان سے پہلے والوں کو نیست و نابود کیا تھا، یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے شراب اور ڈھولک اور گانے والیوں کو حلال سمجھ کر اختیار کیا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7896]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديث له ثلاثة اسانيد: (1): ضعيف لضعف سيار بن ھاتم، وضعفِ فرقد بن يعقوب السبخي، و(2) فرقد عن قتادة عن سعيد بن المسيب مرسلا و(3) فرقد عن ابراهيم النخعي، وھذا اسناد معضل، أخرجه الطيالسي: 1137، والحاكم: 4/ 515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22584»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7897
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَبِيتَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَهْوٍ فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ بِاسْتِحْلَالِهِمُ الْمَحَارِمَ وَالْقَيْنَاتِ وَشُرْبِهِمُ الْخَمْرَ وَأَكْلِهِمُ الرِّبَا وَلُبْسِهِمُ الْحَرِيرَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا عبدالرحمن بن غنم، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری امت کے کچھ لوگ سخت ترین تکبر، سرکشی اور کھیل کود میں رات گزاریں گے، وہ صبح کے وقت بندر اور خنزیر ہوجائیں گی، کیونکہ وہ حرام چیزوں اور گانے والیوں کو حلال سمجھیں گے، شراب پئیں گے، سود کھائیں گے اور ریشم پہنیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7897]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديث له اربعة اسانيد، كلھا ضعيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23176»
وضاحت: فوائد: … اب ہم اس موضوع سے متعلقہ مزید کچھ احادیث اور اقتباسات پیش کرتے ہیں:

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں