الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهَةِ خَاتَمِ الصُّفْرِ وَالْحَدِيدِ وَاسْتِحْبَابِ خَاتَمِ الْفِضَّةِ
پیتل اور لوہے کی انگوٹھی کی کراہت اور چاندی کی انگوٹھی کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 7974
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَجَاءَ وَقَدْ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ قَالَ فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِنْ فِضَّةٍ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ تو نے جنت والوں کے زیورات پہن رکھے ہیں (جو کہ دنیا میں جائز نہیں ہیں)؟ اس نے کہا: پھر میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: میں تجھ سے بت پرستوں کی بوپا رہا ہوں۔ اس نے کہا: تو پھر اے اللہ کے رسول!: میں کس چیز سے انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاندی سے بنوا لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7974]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4223، والترمذي: 1785، والنسائي: 8/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23422»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوہے اور پیتل کی انگوٹھی منع ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7975
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ هَذَا شَرٌّ هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ فَأَلْقَاهُ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی پر سونے کی انگوٹھی دیکھی اور اس وجہ سے اس سے رخ پھیر لیا، اس نے وہ پھینک دی اور لوہے کی انگوٹھی بنا لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے، یہ تو دوزخیوں کا زیور ہے۔ انہوں نے وہ بھی اتار دی اورچاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7975]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 1021، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6680»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7976
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ فَطَرَحَهُ ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ هَذَا أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ فَطَرَحَهُ ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو گویا آپ نے ناپسند فرمایا، میں نے وہ اتار کر پھینک دی، پھر میں نے لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی زیادہ خبیث ہے، یہ بہت خبیث ہے۔ پس میں نے اس کو بھی پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7976]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6977»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7977
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلْقِ ذَا فَأَلْقَاهُ فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ ذَا شَرٌّ مِنْهُ فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی اور فرمایا: اسے اتار دو۔ اس نے وہ اتار دی اور لوہے کی انگوٹھی بنوا لی، لیکن اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اس سے بھی بدتر ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7977]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 132»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لوہے کی انگوٹھی ممنوع اور حرام ہے، اس لیے اس کے جواز کا فتوی دینے والوں کو دھوکہ میں نہیں آنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره