الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 8087
عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي دَقِرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَتْ كُنَّا نَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَتْ عَلَى امْرَأَةٍ بُرْدًا فِيهِ تَصْلِيبٌ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ اطْرَحِيهِ اطْرَحِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَحْوَ هَذَا قَضَبَهُ
۔ ام عبدالرحمن دقرہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھیں، انہوں نے ایک عورت پر ایسی چادر دیکھی، جس میں صلیب کا نشان تھا۔ سیدہ نے کہا:اس کو پھینک دو، اس کو پھینک دو،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو دیکھتے تو کاٹ دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8087]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي في الكبري: 9792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25604»
وضاحت: فوائد: … صلیب کی تصویر کا حکم وہ نہیں ہے، جو ذی روح چیزوں کی تصاویر کا ہے، چونکہ صلیب کے پیچھے ایک غلط نظریہ ہے، اس لیے مسلمانوں کے گھروں میں اس کا نشان یا اس کی تصویر بھی نظر نہیں آنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 8088
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّ تَصَاوِيرَهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر کے کونے میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ پردہ ہم سے دور کر دو، اس کی تصاویر نماز میں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8088]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12559»
وضاحت: فوائد: … ان تصاویر سے مراد نقش و نگار والی اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 374
حدیث نمبر: 8089
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَرَّةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَهَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ أَوْ يُشَبِّهُونَ قَالَ سُفْيَانُ سَوَاءٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے، جبکہ میں نے تصاویر والا ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ کا چہرہ غصے سے تبدیل ہوگیا اور اس پردے کو اپنے دست مبارک سے پھاڑ ڈالا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں روزِ قیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان کو ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں)۔ امام سفیان نے کہا: دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8089]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5954، ومسلم: 2107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24582»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5954
حدیث نمبر: 8090
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ اتَّخَذْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ الصُّورُ وَفِي لَفْظٍ فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتِ الْأَجْنِحَةِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَتَكَهُ وَقَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک پردہ بنایا جس میں تصویریں تھیں، ایک روایت میں ہے: اس میں پروں والے گھوڑے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور اسے چاک کر دیا اور فرمایا: روزِ قیامت لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے مشابہ چیز بناتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8090]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5954، ومسلم: 2107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25063»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5954
حدیث نمبر: 8091
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ نَظَرَ إِلَيْهِ فَهَتَكَهُ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے دروازہ پر پردہ لٹکایا، اس میں تصویریں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہونے کے لئے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پردہ دیکھا اور پھر اس کو چاک کر دیا، میں نے وہ پکڑا اور اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8091]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2479، ومسلم: 2107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25225»
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 2479
حدیث نمبر: 8092
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرَتْهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً فَقَالَ لَهَا اقْطَعِيهِ وِسَادَتَيْنِ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَكُنْتُ أَتَوَسَّدُهُمَا وَيَتَوَسَّدُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک باریک سی چادر خریدی، اس میں تصویریں تھیں، ان کا ارادہ تھا کہ اس سے دلہن خانہ بناؤں گی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو وہ پردہ دکھایا اور بتایا کہ وہ اس سے دلہن خانہ بنانا چاہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے دو تکیے بنا لو۔ وہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ان تکیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8092]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، لضعف ابي اويس عبد الله بن عبد الله الاصبحي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25323»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
حدیث نمبر: 8093
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا وَيَذْكُرِ الصُّوَرَ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ قَالَ هَاشِمٌ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ وَكَذَا قَالَ يُونُسُ
۔ زید بن خالد سے مروی ہے کہ صحابیٔ رسول سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔ بسر کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ لگا ہوا تھا، اس میں تصویر تھی، میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں گزشتہ دنوں میں تصویروں کی مذمت بیان نہیں کی تھی؟ لیکن اب ان کے دروازے پر پردہ تصویر والا ہے، عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار کی اجازت ہے؟ ہاشم نے کہا: کیا زید نے ہمیں گزشتہ دنوں بتایا نہیں تھا کہ تصویر نا جائز ہے تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار مستثنی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8093]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5958، ومسلم: 2106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16456»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ (یہ جو کپڑے میں نقش و نگار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے) اس سے مراد غیر ذی روح کی تصویر ہے، جیسے درخت وغیرہ۔ کیونکہ یہ حدیث قریب ہی گزری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصویر والے کپڑے کو چاک کر دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5958
حدیث نمبر: 8094
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْتَزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ سَهْلٌ أَوَلَمْ يَقُلْ إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي
۔ عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیاِ ان کی تیمارداری کیِ ان کے پاس سہل بن حنیف کو پایا، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک انسان کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے چادر نکالی، سیدنا سہل نے ان سے کہا: اسے کیوں نکالتے ہو؟ کہا اس میں تصویریں ہیں اور تصویروں کے بارے میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے، سہل نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے میں تصویر کو مستثنیٰ کیا ہے، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میرا دل اسی طرح مطمئن ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8094]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1750، والنسائي: 8/ 212، وأخرجه بنحوه البخاري: 5958،ومسلم: 2106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16075»
وضاحت: فوائد: … سابق حدیث کے فوائد دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8095
عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ وَعَلَيْهِ بُرْدُ إِسْتَبْرَقٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا حِينَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ قَالَ أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ قَالَ انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ قَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ قَالَ لَا فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا
۔ شعبہ سے مروی ہے کہ سیدنا مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تکلیف کی وجہ سے ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، ان پر ریشم کی چادر تھی، میں (مسور) نے کہا، اے ابو عباس! یہ کپڑا کیوں؟ انھوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: یہ تو ریشم ہے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ نہیں تھا، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑائی اور تکبر کی وجہ سے ریشم سے منع کیا ہے اور ہم الحمد اللہ ایسے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: تو آتش دان میں یہ تصویریں کیسی ہیں؟ انھوں نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے کہ ہم ان کو آگ میں جلانے لگے ہیں۔ جب مسور نکل کر چلے گئے تو انھوں نے کہا: یہ کپڑا مجھ سے اتار دو اور ان تصوریروں کے سرکاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! اگر آپ اسے بازار میں لے جائیں تو یہ سروں سمیت جلدی اور اچھی قیمت میں فروخت ہو جائیں گے، انھوں نے کہا: نہیں، پھر ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8095]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شعبة بن دينار سييء الحفظ، أخرجه الطيالسي: 2730، والطبراني: 12218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2932»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کپڑے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، جس کا بانا ریشم کا ہو یا اس پر نقش و نگار ریشم کا ہوا ہو، اگرچہ وہ چار انگلی سے زائد ہے، بہرحال یہ ان کی ذاتی رائے ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۸۰۴۸)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف