الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَدُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّوْبِ وَالْجَائِزِ والحرام
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
حدیث نمبر: 8121
عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بُرْدَةً مَلْحَاءَ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ
۔ سیدنا عبیدہ بن خلف بیان کرتے ہیں میں مدینہ میں آیا، میں ابھی نوجوان تھا میں نے ایک دھاری دار تہبند باندھ رکھا تھا جوزمین پر کھینچا جا رہا تھا ایک آدمی نے مجھے پا لیا اور مجھے چھڑی لگائی اگر تم یہ کپڑا اوپر اٹھا لو تو تمہارے لئے دیرپابھی ہوگا اور صاف بھی ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایک سیاہ و سفید دھاری والی چادر ہے۔ آپ نے فرمایا: اگرچہ یہ سیاہ و سفید چادر ہے لیکن کیا تمہارے لئے میرے اندر بہترین اسوہ نہیں؟ میں نے آپ کے تہبند کی طرف دیکھا تو وہ ٹخنوں سے اوپر اور پنڈلی کے پٹھے کے نیچے تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8121]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم، وجھالة عمة الاشعث، أخرجه الطيالسي: 1190، والترمذي في الشمائل: 113، والنسائي في الكبري: 9682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23475»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم
حدیث نمبر: 8122
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ قَالَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِيمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری پنڈلی کے پٹھے کو پکڑ کر کہا یہ تہبند باندھنے کی جگہ ہے اگر تو اس سے انکار کرتا ہے تو اس سے ذرا نیچے کر لو، اور اگر اس سے بھی انکار کرتا ہے تو ٹخنوں کے نیچے تہبند رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8122]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3572، والترمذي: 1783، والنسائي: 8/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23632»
وضاحت: فوائد: … قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے مزاج کو نظر انداز کر کے ان احادیث کا مطالعہ کریں اور اپنے وضع قطع کے معاملات میں اسلام میں پورا پورا داخل ہو جائیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره