الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ كَرَاهَةِ تَغْيِيرِ الشَّيْبِ بِالسَّوَادِ
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 8211
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ قَالَ حُسَيْنٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگا کریں گے، جیسے کبوتروں کے سینے کے بال ہوتے ہیں، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8211]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4212، والنسائي: 8/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2470»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 8212
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ شَابَ إِلَّا يَسِيرًا وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَهُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ قَالَ وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ مَكْرُمَةً لِأَبِي بَكْرٍ فَأَسْلَمَ وَلِحْيَتُهُ وَرَأْسُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو معمولی بال سفید ہوئے تھے، البتہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما آپ کے بعد مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا کرتے تھے۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے باپ سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے، یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بزرگ کو ان کے گھر ہی ٹھہرنے دیتے تو ابو بکر کی عزت افزائی کے لیے ہم خود ہی ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر ابو قحافہ نے اسلام قبول کیا، ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے رنگ کو تبدیل کر دو، البتہ سیاہی سے بچو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8212]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5894، ومسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12662»
وضاحت: فوائد: … ثغامہ: ایک درخت جو پہاڑکی چوٹی پر اگتا ہے، اس کا پھل اور پھول سفید ہوتے ہیں، اور جب یہ خشک ہو جاتا ہے تو اس کی سفیدی بڑھ جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5894
حدیث نمبر: 8213
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تُقَرِّبُوهُ السَّوَادَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کا رنگ تبدیل کر دو، البتہ سیاہی اس کے قریب نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8213]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2980، وقد سلف بنحوه في الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13623»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 8214
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ، تاکہ وہ ان کے بالوں کو رنگ کر تبدیل کر دے، البتہ ان کو سیاہی سے بچاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8214]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14455»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2102
حدیث نمبر: 8215
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزَّنَادِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الزَّنْجِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَابِغًا رَأْسَهُ بِالسَّوَادِ
۔ زنجی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری کو دیکھا، انہوں نے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ کر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8215]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16798»
وضاحت: فوائد: … امام زہری نے کہا: أمر النبی بالاصباغ، فأحلکھا أحب الینا۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگنے کا حکم دیا اور مجھے سب سے زیادہ سخت سیاہ رنگ زیادہ پسند ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۰۱۷۶)
الحكم على الحديث:
ھذا الاثر صحيح