🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ الْحَبُّ عَلَى تَعَلُّمِ الْقُرْآنِ وَتَعْلِيمِهِ وَحِفْظِهِ وَفَضْلٍ ذَلِكَ
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8338
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَتَعَاهَدُوا وَتَغَنَّوْا بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتاب اللہ کو سیکھو اور پھر اس کی نگہداشت کرو اور گا کر یعنی خوبصورت آواز میں اس کو پڑھو، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت (سینوں سے) جلدی نکل جانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8338]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 500، والدارمي: 3348، والنسائي في الكبري: 8034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17450»
وضاحت: فوائد: … کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کرنے کے تین انداز ہیں: (۱)ناظرہ (۲) حفظ (۳)ترجمہ و تفسیر۔
جو آدمی جس انداز میں اس کتاب کی تعلیم حاصل کر چکا ہے، اس کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ بار بار اس کو پڑھا جائے اور اس کے معانی و مفاہیم کا مطالعہ کیا جائے، عام لوگوں کا نظریہیہ ہے کہ اس قسم کی احادیث کا تعلق صرف حافظ ِ قرآن سے ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 500
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8339
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ فَيَأْخُذَهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ قَالَ قُلْنَا كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم میں سے کون ہے، جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روزانہ صبح صبح وادیٔ بطحان یا وادیٔ عقیق میں جایا کرے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر وہاں سے خوبصورت اور بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آیا کرے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایک یہ چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مسجد میں صبح جائے، کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین آیتیں، تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار چار سے بہتر ہیں، غرضیکہ جتنی آیات، اتنی اونٹنیاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8339]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17543»
وضاحت: فوائد: … انسان ظاہری اور خاص طور پر مال و دولت کی نعمت کو زیادہ اور جلدی محسوس کرتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مثال دے کر صحابۂ کرام کاذہن روحانی خزانے کی طرف منتقل کر دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 803
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8340
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8340]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10017»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں: ((أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَ ہْلِہِ یَجِدُ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ فَثَلَاثُ آیَاتٍیَقْرَأُ بِہِنَّ أَ حَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ۔)) … کیا تم میں سے کوئییہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے تو اس کو وہاں تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیاں مل جائیں، بس تین آیات ہیں، اگر کوئی آدمی اپنینماز میں تین آیات کی تلاوت کر لیتا ہے تو یہ عمل اس کے لیے تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 802
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8341
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَتَفْسِيرِهِ وَأَسْبَابِ نُزُولِه/حدیث: 8341]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 1/ 567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19773»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے یمن کی طرف ان دو صحابہ کو بھیجا تھا اور ان کو روانہ کرنے کا ایک مقصد قرآن مجید کی تعلیم بھی تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں