الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ ذِكْرِ آيَاتٍ كَانَتْ فِي الْقُرْآنِ وَنُسِخَتْ
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
حدیث نمبر: 8453
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَمْ تَقْرَءُونَ سُورَةَ الْأَحْزَابِ قَالَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ آيَةً قَالَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الْبَقَرَةِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْهَا وَإِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8453]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضف يزيد بن ابي زياد الكوفي، وعاصم بن بھدلة، وان كان صدوقا، تقع له اوھام بسبب سوء حفظه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21525»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8453M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَأَيِّنْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْأَحْزَابِ أَوْ كَأَيِّنْ تَعُدُّهَا قَالَ قُلْتُ لَهُ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ آيَةً فَقَالَ قَطُّ لَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُعَادِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِيهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8453M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عاصم بن بھدلة، وان كان صدوقا، له اوھام بسبب سوء حفظه، فلايحتم تفرده بمثل ھذا المتن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 359، والطيالسي: 540، وابن حبان: 4428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21526»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8454
عَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ ابْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْتُبَانِ الْمَصَاحِفَ فَمَرُّوا عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَقَالَ زَيْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَكْتِبْنِيهَا قَالَ شُعْبَةُ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَا تَرَى أَنَّ الشَّيْخَ إِذَا لَمْ يُحْصَنْ جُلِدَ وَأَنَّ الشَّابَّ إِذَا زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ
۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص رضی اللہ عنہ اورسیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8454]
تخریج الحدیث: «رجال ثقات۔ أخرجه الدارمي: 2323، والنسائي في الكبري: 7145، والحاكم: 4/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21932»
وضاحت: فوائد: … اس منسوخ آیت میں بوڑھے مرد اور عورت کا ذکر اتفاقاً کیا گیا ہے، کیونکہ عام طور پر اس عمر کے لوگ شادی شدہ ہی ہوتے ہیں، وگرنہ رجم کی سزا اس زانی کے لیے ہے، جو شادی شدہ ہو۔
الحكم على الحديث: رجال ثقات ۔ أخرجه الدارمي: 2323
حدیث نمبر: 8455
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَعَاتُ الْكَبِيرِ عَشْرًا فَكَانَتْ فِي وَرَقَةٍ تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِي فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِهِ وَدَخَلَتْ دُوَيْبَّةٌ لَنَا فَأَكَلَتْهَا
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8455]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرّد محمد بن اسحاق، وفي متنه نكارة۔ أخرجه ابن ماجه: 1944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 36316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26847»
وضاحت: فوائد: … رضاعت کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ۔ … اس بارے میں جو قرآن میں نازل کیا گیا وہ دس بار مقرر شدہ دودھ پینا تھا، جو حرام کر دیتا تھا، پھر ان کو پانچ بار دودھ پینے سے منسوخ کردیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ان کو قرآن مجید میں پڑھا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۳۴)
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
اب رضاعت کا حکم پانچ دفعہ دودھ پینے سے ہی ثابت ہو گا، البتہ ان الفاظ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لتفرّد محمد بن اسحاق
حدیث نمبر: 8456
عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ قَالَ فَقَرَأَ عَلَيَّ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ [سورة البينة: ١-٦] قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
(8456م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [سورة البينة: ١] قَالَ فَقَرَأَ فِيهَا وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ الْقَيِّمَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
(8456م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ فَقَرَأَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ [سورة البينة: ١] قَالَ فَقَرَأَ فِيهَا وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَلِكَ الدِّينَ الْقَيِّمَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرُ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ثُمَّ قَرَأَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ قَالَ ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8456]
۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8456]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3793، 3898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21522»
وضاحت: فوائد: … اس سورت کی درج ذیل آیات کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے: إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ … … لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ}
الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 3793
حدیث نمبر: 8457
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَيُحَدِّثُنَا فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ … بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8457]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ھشام بن سعد المدني،يعتبر به في المتابعات والشواھد۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3300، والبيھقي في الشعب: 10277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22251»
وضاحت: فوائد: … یہ تمام آیات منسوخ ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف من اجل ھشام بن سعد المدني
حدیث نمبر: 8458
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8458]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 5032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19495»
وضاحت: فوائد: … یہ آیات بھی منسوخ ہو گئی ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 5032
حدیث نمبر: 8459
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ قَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ قَالَ فَمَرَّ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا فَأَثْبَتَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پاؤں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8459]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21428»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 8460
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
(8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ
(8460م) وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8460]
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8460]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ پھر دوسرے صحابہ کی گواہی کی وجہ سے ان آیات کو قرآن مجید سے مٹا دیا گیا ہو۔
الحكم على الحديث: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111
حدیث نمبر: 8461
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں بات کی، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8461]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مؤمل وعبد الاعلي۔ أخرجه الترمذي: 2950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2429»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف مؤمل وعبد الاعلي ۔ أخرجه الترمذي: 2950