الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ»
{الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَالضَّالِیْنَ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8478
عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ قَالَ فَمَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ الضَّالُّونَ يَعْنِي النَّصَارَى قَالَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ أَوْ قَالَ غُلَامُكَ فُلَانٌ فَقَالَ بَلْ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا
۔ عبداللہ بن شفیق سے مروی ہے، وہ کسی صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی ٔ قری میں اپنے گھوڑے پر سوار تھے، بلقین کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر غضب ہوا۔ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اس آدمی نے کہا: اور یہ لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی گمراہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد عیسائی لوگ تھے۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کا غلام شہید ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ایک چادر کی خیانت کرنے کی وجہ سے اس کو آگ کی طرف گھسیٹا جا رہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8478]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 6/ 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21016»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه البيھقي: 6/ 336
حدیث نمبر: 8479
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ وَإِنَّ الضَّالِّينَ النَّصَارَى
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن پر غضب ہوا وہ یہودی ہیں اورجو گمراہ ہوئے، وہ عیسائی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8479]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19600»
وضاحت: فوائد: … یہودی وہ لوگ ہیں، جنھوں نے حق کو پہنچانا مگر اس پر عمل پیرا نہ ہوئے، سو وہ غضب ِ الٰہی کے مستحق ٹھہرے اور عیسائی وہ لوگ ہیں، جو جہالت کے سبب راہِ حق سے برگشتہ ہو گئے، ابن ابی حاتم نے کہا: مفسرین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ {الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ} سے مراد یہودی اور {الضَّالِّیْنَ} سے مراد عیسائی ہیں۔
اس لیے صراطِ مستقیم کی خواہش رکھنے والوں کے ضروری ہے کہ یہودو نصاری دونوں کی گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔
اس لیے صراطِ مستقیم کی خواہش رکھنے والوں کے ضروری ہے کہ یہودو نصاری دونوں کی گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔
الحكم على الحديث: صحيح بالشواھد