🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ آيَةِ الْمِيْرَاثِ
وراثت کی آیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8550
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ فَقَالَ يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ جنگ احد میں شہید ہو چکا ہے اوران کے چچے نے ان کا سارا مال سمیٹ لیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو ان کی شادی نہیں ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔ پس میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بچیوں کے چچے کو بلایا اور اس سے فرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دو، پھر جو کچھ بچ جائے (وہ بطورِ عصبہ) تیرا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8550]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2891، 2892، وابن ماجه: 2720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14858»
وضاحت: فوائد: … جب میت کی دو یا زائد بیٹیاں ہوں تو ان کو دو تہائی ملتا ہے، جب خاوند کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے، چچا عصبہ ہے، اس لیے دو قسم کے اصحاب الفروض سے جو کچھ بچے گا، وہ چچا کو ملے گا۔ علم میراث ایک مکمل اور پیچیدہ فن ہے، سورۂ نساء کے اوائل اور اواخر میں اس سے متعلقہ آیات موجود ہیں۔ حدیث نمبر (۶۳۳۷)سے پہلے کِتَابُ الْفَرَائِضِ میں اس علم سے متعلقہ بعض مسائل بیان کیے جا چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده محتمل للتحسين ۔ أخرجه ابوداود: 2891
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں