🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ» ‏‏‏‏
{فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8556
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلزُّبَيْرِ سَرِّحِ الْمَاءَ فَأَبَى فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ ارْسِلْ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الْجُدُرِ قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا [سورة النساء: ٦٥]
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ دیوار تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نساء: ۶۵) [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8556]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2359، ومسلم: 2357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16215»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میں واضح طور پر مؤمن کی تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں، ہمیں بھی ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرنی چاہیے۔ یہ انصاری بدری صحابی تھے، منافق نہیں تھے اور اللہ تعالی نے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والوں کی پیشگی معافی کا اعلان کر دیا تھا، بس غصے میں آ گئے اور شیطان کے ورغلانے پر یہ الفاظ کہہ دیئے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے حق میں سختی نہیں کی۔ مذکورہ بالا دو احادیث سے معلوم ہوا کہ قدرتی پانی کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہے، جس کی زمین اس کے سب سے زیادہ قریب ہو گی، لیکن جب وہ ضرورت پوری کر لے گا تو اس کو پانی روک لینے کا کوئی حق حاصل نہ ہو گا، وہ اپنے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا، پھر وہ اپنی ضرورت پوری کر لینے کے بعد تیسرے نمبر پر آنے والے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا۔ علی ہذا القیاس۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2359
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں