🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ: «وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنَا»
{وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8560
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا [سورة النساء: ٩٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بنو سلیم کے ایک آدمی کے پاس سے گزری، اس کے پاس بکریاں تھیں، اس نے ان صحابہ کرام کو سلام کہا، لیکن صحابہ نے کہا: یہ صرف تم سے پناہ لینے کے لیے سلام کہہ رہا ہے، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان بکریوں کو لائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} … اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8560]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4591، ومسلم: 3025، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2987»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیہ ہے: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوا وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ، فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لو اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا۔ پس خوب تحقیق کر لو، بے شک اللہ ہمیشہ اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4591
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8561
عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمَ فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمَ مَرَّ بِنَا عَامِرٌ الْأَشْجَعِيُّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ مُتَيْعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ فَلَمَّا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَأَخَذَ بَعِيرَهُ وَمُتَيْعَهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ نَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا [سورة النساء: ٩٤]
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اِضَم پہاڑ یا مقام کی جانب بھیجا، پس میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں نکلا، سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی اور سیدنا مُحَلّم بن جثامہ رضی اللہ عنہما بھی اس لشکر میں شامل تھے، پس ہم نکل پڑے اور جب اضم کی ہموار جگہ پر پہنچے تو ہمارے پاس سے عامر اشجعی گزرا،یہ نوجوان اونٹ پر سوار تھا اور اس کے ساتھ کچھ سامان بھی اور دودھ اور گھی کا مشکیزہ بھی تھا، اس نے ہمیں سلام کہا، سو ہم نے اس پر حملہ نہ کیا، لیکن مُحَلّم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کے پاس جو آلہ تھا، اس نے اس کے ذریعے اس کو قتل کر دیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کر لیا، جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ واقعہ بیان کیا تو ہمارے بارے میں یہ قرآن نازل ہوا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوا وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ، فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لو اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا۔ پس خوب تحقیق کر لو، بے شک اللہ ہمیشہ سے اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8561]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 547، والبيھقي في دلائل النبوة: 4/ 305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24378»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی بظاہر اسلام کا دعوی کر رہا ہو، اس کے قتل کا کوئی جواز نہیں ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۴۹۸۰) والے باب کی احادیث۔

الحكم على الحديث: اسناده محتمل للتحسين ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 547
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں