🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ: «لَيْسَ بِأَمَانِيكُمْ»
{لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8567
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] فَكُلَّ سُوءٍ عَمِلْنَا جُزِينَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْتَ تَمْرَضُ أَلَسْتَ تَنْصَبُ أَلَسْتَ تَحْزَنُ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ قَالَ بَلَى قَالَ فَهُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَإِنْ ذَاكَ بِذَاكَ
۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب اس آیت کے نزول کے بعد کیسے ممکن ہے کہ آدمی نیکی اور راست روی سے متصف ہو: {لَیْسَ بِأَ مَانِیِّکُمْ وَلَا أَ مَانِیِّ أَ ہْلِ الْکِتَابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ} … دین نہ تمھاری آرزوئیں ہیں اور نہ اہل کتاب کی آرزوئیں،جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ ہم جو برا عمل بھی کرتے ہیں، اس کا ہمیں بدلہ دیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں تھکاوٹ نہیں ہوتی؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے؟ کیا تم شدت اور تنگی میں مبتلا نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ چیز ہے، جو تمہیں بدلہ دیا جا رہا ہے۔ ایک روایت میں ہے: یہ اسی کے عوض میں ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8567]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابويعلي: 98، 99، 100، وابن حبان: 2910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 68 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 68»

الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواھده ۔ أخرجه ابويعلي: 98
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8568
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْلُغَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَكُلُّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا وَالشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} … جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور بہت زیادہ غمگین ہو گئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، مسلمان کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے، وہ اس کے لیے کفارہ بنتی ہے، یہاں تک کہ وہ مصیبت جو اسے لاحق ہوتی ہے اور وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8568]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7380»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2574
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8569
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] قَالَ إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا هَلَكْنَا إِذًا فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} … جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ اور پھر کہا: اگر ہمیں ہر برے عمل کا بدلہ ملا تو ہم تو مارے جائیں گے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! (بدلہ تو ہر برے عمل کا ملتا ہے) لیکن ایمانداروں کو دنیا میں تکلیف دینے والی جو مصیبت لاحق ہوتی ہے، یہ ان (کے گناہوں کا) بدلہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8569]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 4675، وابن حبان: 2923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24872»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے یا اس کے لیے بلندیٔ درجات کاسبب بنتی ہے، بہرحال اللہ تعالی سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا چاہیے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 4675
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں