🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. باب: «إِنْ تُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ۔۔۔۔» ‏‏‏‏
سورۃ الانعام {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہٖ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8592
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَالَا لَا مَا سَمِعْنَا مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ أَيُّهَا السَّائِلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ [سورة الأنعام: ٣٨] فَقَالَا هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا وَقَدْ أَدْرَكَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبید اللہ بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بسر کے دو بیٹوں کے پاس گیا اور ان سے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، اس بارے میں بتائیں کہ آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے، کوڑے کے ساتھ اسے مارتا ہے، اس کی لگام کھینچتا ہے، کیا تم نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم نے اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ نہیں سنا، اچانک گھر کے اندر سے ایک خاتون نے آواز دی اور کہا: اے سوال کرنے والے! بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَ رْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَ مْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ} … اور زمین میں نہ کوئی چلنے والا ہے اور نہ کوئی اڑنے والا، جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں۔ ان دو بھائیوں نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، ہم سے بڑی ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8592]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17837»
وضاحت: فوائد: … {إِلَّا أُمَمٌ أَ مْثَالُکُمْ}اس جملے سے ثابت ہوا کہ انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری مخلوقات کو اذیت دے۔اس مماثلت سے کیا مراد ہے؟ چند ایک وجوہات درج ذیل ہیں۔ حیوانات کا بندوں کی طرح اللہ تعالی کی معرفت رکھنا اور اس کی تسبیح بیان کرنا۔ بندوں کی طرح ان کا آپس میں مانوس ہونا، خاص طور پر ہم جنسوں کا۔
روزی تلاش کرنا اور ہلاکت گاہوں سے بچنا۔ پیدا ہونے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بندوں کی طرح ایک مدبِّر کا محتاج ہونا۔ اللہ تعالی جیسے بندوں کو روزی دیتا ہے، ایسے ہی اُن کو روزی عطا کرتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں