الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: «فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَل .... الخ»
{فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗلِلْجَبَلِ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8603
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [سورة الأعراف: ١٤٣] قَالَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ قَالَ أَبِي أَرَانَا مُعَاذٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗدَکًّا} … تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ کے بارے میں فرمایا: بس اس طرح ہوا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھنگلیانگلی کا ایک کنارہ نکالا، جب معاذ نے ہمیں یہ کیفیت دکھائی تو حمید طویل نے کہا: اے ابو محمد! اس مثال سے تیری مراد کیا ہے؟ لیکن ابو محمد نے حمید کے سینے پر سخت ضرب لگائی اور کہا: حمید! تو کون ہے؟ تو کیا چیز ہے، حمید! مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تھا اور تو کہتا ہے کہ اس مثال سے تیری مراد کیا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8603]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه بنحوه الترمذي: 3074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12285»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه بنحوه الترمذي: 3074
حدیث نمبر: 8603M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [سورة الأعراف: ١٤٣] قَالَ فَأَوْمَأَ بِخِنْصَرِهِ قَالَ فَسَاخَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس فرمان{فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ} کی وضاحت کرتے ہوئے چھنگلی انگلی سے اشارہ کیا، لیکن (اتنی سی تجلّی سے پہاڑ زمین میں دھنسگیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8603M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13210»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَمَّا جَاء َ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَکَلَّمَہ رَبُّہ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرٰینِیْ وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَقَرَّ مَکَانَہ فَسَوْفَ تَرٰینِیْ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ دَکًّا وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔} … اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھے گا اور لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ، سو اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا، پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے کہا تو پاک ہے، میں نے تیری طرف توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ابھی تک چھوٹی انگلی کے پورے کی مقدار کے برابر اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی کی تھی، لیکن وہ اس کوبھی برادشت نہ کرسکا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے والی بات تو قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اس روایت میں اس کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر آیا ہے تو ممکن ہے کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہوا اور کچھ زمین میں دھنس گیا۔ (عبداللہ رفیق)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ابھی تک چھوٹی انگلی کے پورے کی مقدار کے برابر اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی کی تھی، لیکن وہ اس کوبھی برادشت نہ کرسکا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے والی بات تو قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اس روایت میں اس کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر آیا ہے تو ممکن ہے کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہوا اور کچھ زمین میں دھنس گیا۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13210