🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ: «وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً»
{وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8609
عَنْ مُطَرِّفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [سورة الأنفال: ٢٥] لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ
۔ مطرف کہتے ہیں: ہم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کون سی چیز تم کو یہاں لائی ہے، تم نے خلیفہ راشد کو ضائع کر دیا ہے، حتیٰ کہ انہیں مظلوم شہید کردیا گیا ہے۔ اور پھر تم ان کے خون کا مطالبہ کرنے بیٹھ گئے ہو؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے عہد ِ نبوی، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کی خلافتوں میں یہ آیت پڑھی تھی: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف انہی لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں۔ یہ خیال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم اس کی زد میں آ جائیں گے، بہرحال یہ واقع ہوا اور ہم پر واقع ہوا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8609]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه البزار: 976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1414»

الحكم على الحديث: اسناده جيّد ۔ أخرجه البزار: 976
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8609M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [سورة الأنفال: ٢٥] فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ
۔ (دوسری سند) حسن بصری کہتے ہیں:سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاصی تعدادمیں موجود تھے: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا۔ اس وقت ہم نے کہا: یہ فتنہ کیا ہوتا ہے،پھر ہمیںپتہ بھی نہ چلا، لیکنیہ فتنہ واقع ہو گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8609M]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1438»
وضاحت: فوائد: … برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان،اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو صرف گنہگاروں اور بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا، بلکہ اس بلا کی وبا عام ہوگی۔ اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے، جو بلاتخصیص، عام و خاص پرظلم کرتے ہیں،یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت ِ بارش یا سیلاب وغیرہ ارضی و سماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک و بد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں،یا بعض احادیث میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی وہ مراد ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 11206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں