🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بابُ «أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ» ‏‏‏‏
{اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8619
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا [سورة التوبة: ١٩]
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کی ایک جانب بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا، اسلام کے بعد مجھے کوئی عمل کرنے کی پرواہ نہیں ہے، الا یہ کہ حاجیوں کو پانی پلاؤں گا۔ دوسرے نے کہا: مجھے اسلام کے بعد مسجد حرام آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل کرنے کی پرواہ نہیں ہے، ایک اور بولا اور اس نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو، اس سے افضل اور بہتر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو، یہ جمعہ کا دن تھا، جب میں نے جمعہ ادا کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور ان لوگوں کے اختلاف کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {اَجَعَلْتُمْ سِقَا یَـۃَ الْحَاجِّ وَ عِـمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ ِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔} (سورۂ توبہ: ۱۹) کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8619]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18557»
وضاحت: فوائد: … نیکیوں اور برائیوں کا تعین کرنا اور پھر کسی نیکی کو کم یا زیادہ ثواب والا اور کسی برائی کو کم یا زیادہ جرم والا قرار دینا،یہ شریعت کا حق ہے، کسی بندے کے فہم کانتیجہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1879
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں