🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ: «لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ» ‏‏‏‏
{لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8628
عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ بَرَاءَةَ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ إِلَّا أَنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَعَيْتُهَا وَحَفِظْتُهَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَتْ ثَلَاثَ آيَاتٍ لَجَعَلْتُهَا سُورَةً عَلَى حِدَةٍ فَانْظُرُوا سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَضَعُوهَا فِيهَا فَوَضَعْتُهَا فِي آخِرِ بَرَاءَةَ
۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حارث بن خزمہ، سورۂ توبہ کی یہ آخری دو آیتیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لائے، انہوں نے کہا: ان پر تمہارے ساتھ گواہ کون گواہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں ہے، ہاں میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی تھیں اور میں نے ان کو یاد کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں، اگر یہ تین آیاتہوتیں تو میں ان کو علیحدہ سورت بنا دیتا، اب تم دیکھو کہ کون سی سورت ان آیات کے لیے زیادہ مناسب ہے، پس اس میں ان کو لکھ دو، پس میں نے ان کو سورۂ توبہ کے آخر میں لکھ دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8628]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحق، ولانقطاعه، قال الشيخ احمد شاكر: عباد بن عبد الله لم يدرك قصة جمع القرآن، بل ما اظنه ادرك الحارث بن خزمة، ولئن ادركه لما كان ذالك مصححا للحديث، اذ لم يروِه عنه، بل ارسل القصة ارسالا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1715»
وضاحت: فوائد: … یہ دو آیاتیہ ہیں: {لَقَدْ جَاء َکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸، ۱۲۹)
بلاشہیقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔
مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنا احسان عظیمیاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا،پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسانی، نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں، جو بہت آسان ہے، سہل ہے، کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے، وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8629
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ الْآيَةُ [سورة التوبة: ١٢٨]
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے آخر میں نازل ہونی والی آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَ نْفُسِکُمْ}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8629]
تخریج الحدیث: «اثر حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 533، والحاكم: 2/ 338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21430»
وضاحت: فوائد: … کون سی آیات سب سے آخر میں نازل ہوئیں؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۴۴۷) کے فوائد۔

الحكم على الحديث: اثر حسن ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 533
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں