🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: «وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ» ‏‏‏‏
سورۂ حجر {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8647
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} [الحجر: 24]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک حسین عورت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھا کرتی تھی، کچھ لوگ اس نظریے سے اگلی صف میں کھڑے ہوتے تھے تاکہ وہ اس کو دیکھ نہ سکیں اور کچھ لوگ آخری صف میں اس نیت سے کھڑے ہوتے تھے کہ جب وہ رکوع کریں گے تو بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھیں گے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا: {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِینَ} … ہم تم میں سے آگے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے والوں کو بھی جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8647]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابن ماجه: 1046، والترمذي: 3122، والنسائي: 2/ 118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2783»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: حافظ ابن کثیر نے (تفسیر القرآن العظیم: ۵/ ۱۲۔ ۱۳) میں کہا: یہ بڑی غریب اور ناقابل تسلیم خبر ہے۔ لیکن میں (البانی) کہتا ہوں: حافظ ابن کثیر نے جس غرابت اور تفرد کا دعوی کیا ہے، دوسرے طرق کی وجہ سے اس کی نفی ہو جاتی ہے، … ان طرق میں اگرچہ ضعف پایا جاتا ہے، لیکن وہ ایک دوسرے کو قوی کرتے ہیں اور حدیث قابل عمل بن سکتی ہے۔ ان تمام طرق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت نماز کی صفوں کے بار ے میں نازل ہوئی،۔ رہا مسئلہ اس حدیث کے ناقابل تسلیم ہونے کا، تو ممکن ہے کہ حافظ صاحب کی مراد یہ ہو کہ یہ متن معقول المعنی نہیں ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںنمازی صحابہ ایک عورت کو دیکھنے کی خاطر پچھلی صفوں میں کھڑے ہوں؟ ہم اس کا جواب یوں دیں گے کہ جب روایت ثابت ہو جاتی ہے تو غور وفکر کرنے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے، حدیث کے ثبوت کے بعد اس کی نکارت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی، اگر ہم عقل کو معیار بنائیں گے تو کئی احادیث ِ صحیحہ کا انکار لازم آئے گا، یہ روش اہل السنّہ اور اہل الحدیث کو زیب نہیں دیتی،یہ تو معتزلہ اور خواہش پرست لوگوں کا رویہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ پچھلی صفوں میں کھڑے ہونے والے یہ لوگ منافق ہوں یا نو مسلم صحابہ ہوں، جو اُس وقت تک اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلامی آداب و اخلاق کے سانچے میں نہ ڈھال سکے ہوں۔ (صحیحہ: ۲۴۷۲)

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں