🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَالْبَاقِبَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا» ‏‏‏‏
{وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8666
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ چار کلمات باقی رہنے والی نیکیاں ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اللّٰہُ اَکْبَرُ۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8666]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18543»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل آیات سے درج بالا آیت کا مفہوم سمجھنا آسان ہے: ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَاء ٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَاء ِ فَاخْتَلَطَ بِہٖنَبَاتُالْاَرْضِفَاَصْبَحَہَشِیْمًا تَذْرُوْہُ الرِّیٰحُ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ مُّقْتَدِرًا۔ اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ اَمَلًا۔} (سورۂ: ۴۵، ۴۶)
اور اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، انہیں حیات دنیا کی حقیقت اس مثال سے سمجھاؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیویزندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے آسمانی بارش کی طرح ہے، جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزارہا پودے لہلہانے لگتے ہیں، تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں، لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں، اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ باقی رہنے والی چیزیں نیکیاں ہی ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں