الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: «وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ»
{وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8673
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا [سورة مريم: ٦٤] قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام سے فرمایا: تمہیں اس میں کوئی رکاوٹ ہے کہ اب جتنی ملاقات کرتے ہو، اس سے زیادہ کر لیا کرو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَ مْرِ رَبِّکَ لَہُ مَا بَیْنَ أَ یْدِینَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … ہم تیرے رب کے حکم کے سوا نہیں اترتے،اسی کے لیے ہے، جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اورجو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جواب تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8673]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3365»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2135