الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالافْكِ عُصْبَةٌ مِنكُمْ - الا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ»
لعان کی آیات کی تفسیر
حدیث نمبر: 8687
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ التَّلَاعُنِ فَقَالَ قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ قَالَ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں بتائیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس کسی غیر آدمی کو پا لیتا ہے، کیا وہ اسے قتل کردے؟ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن مجید میں لعان سے متعلقہ آیات ناز ل فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ پس ان دونوں میاں بیوی نے لعان کیا، جبکہ میں (سہل) وہاں موجود تھا، پھراس آدمی نے اس عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں جدا کر دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8687]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 423، 4745، 4746، 5309، ومسلم: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23241»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۷۱۹۴)اور اس سے بعد والی احادیث میں لعان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 423