🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ»
سورۂ زمر {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8737
عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 30-31] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ قَالَ ( (نَعَمْ لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ) ) فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب سورۂ زمر کی یہ اٰیات نازل ہوئیں: {إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (اے نبی) یقینا تم بھی وفات پانے والے ہو اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں، پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے ما بین جو کچھ ہوتا ہے، کیا پھر اس کاتکرار ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تم پر ضرور تکرار ہوگا، یہاں تک کہ ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!پھر تو معاملہ بڑا سخت ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8737]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4158، والترمذي: 3236، 3356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1434»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 4158
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8738
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ مَعَ خُصُومَتِنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ ( (نَعَمْ) ) وَلَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا يَعْنِي هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ ( (أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ) )
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ تو میں (زبیررضی اللہ عنہ) نے کہا:اے اللہ کے رسول! دنیا میں ہونے والے ہمارے مابین کے جھگڑوں کے ساتھ (آخرت میں بھی یہ جھگڑے) ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِیمِ} … پھر اس دن تم سے ضرور ضرور نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ میں (زبیر رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول!کون سی نعمت کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟ بس ہمارے پاس تو یہ دو کالے رنگ کی چیزیں ہیں، ایک کھجور ہے اور ایک پانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب یہ سوال ہو گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8738]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1405»
وضاحت: فوائد: … دنیا اور آخرت کے محاسبہ میں فرق ہے، اگر مظلوم نے دنیا میں ہی اپنی رضامندی سے ظالم کو مکمل طور پر معاف کر دیاتو ٹھیک وگرنہ میدانِ حشر میں تصفیہ ہو گا۔ نعمت، نعمت ہی ہوتی ہے، ہر بشر کسی نہ کسی انداز میں اللہ تعالی کی مختلف نعمتوں سے فیضیاب ہوتا ہے، اگر دنیا میں ان کا شکر ادا کر لیا تو ٹھیک، وگرنہ آخرت میں پوچھ گچھ ہو گی۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1405
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں