🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ: «وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ» ‏‏‏‏
{وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8740
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِأَصَابِعِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الزمر: 67]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے ابو القاسم! اس بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اس انگشت ِشہادت پر اٹھا لے گا اور زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور باقی تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اٹھا لے گا؟ ساتھ ہی اس یہودی نے انگلیوں کی طرف اشارہ کیا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} … اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر نہیں کی، جتنی کہ اس کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8740]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2988»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3240
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8741
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَبَلَغَكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْمِلُ الْخَلَائِقَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالسَّمَاوَاتِ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الزمر: 67]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو القاسم! کیایہ بات آپ تک پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کو ایک انگلی پر،آسمانوں کو ایک انگلی پر،زمینوںکو ایک انگلی پر،درختوں کوایک انگلی پر اور تر مٹی کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات پر اتنا زیادہ ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نمایاں ہو گئیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} … اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر نہیں کی، جتنی کہ اس کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8741]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7415، 7451، ومسلم: 2786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3590»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7415
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8742
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} [الزمر: 67] وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ ( (يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيمُ) ) فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ حَتَّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن منبر پر یہ اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَ رْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُونَ} … اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہو ئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے حرکت دینا شروع کی اور فرمایا: رب اپنی ذات کی بزرگی بیان کر رہا ہے کہ میں جبار ہوں، میں بڑائی والا ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں غالب ہوں،میں کریم ہوں۔ جب آپ یہ کہہ رہے تھے تو منبر اس قدر لرز رہا تھا کہ ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں آپ منبر سے نیچے نہ گر جائیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8742]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7412، ومسلم: 2788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5414»
وضاحت: فوائد: … یہ آیت اللہ تعالی کے عظیم اختیارات پر دلالت کرتی ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں، اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے۔ اللہ تعالی سے بڑھ کر عزت والا، اس سے زیادہ بادشاہت والا، اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور نہ مدمقابل، یہ آیت قریشی کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اگر انہیں قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے، جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانتا ہے، وہی اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتاہے۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں منقول ہیں، اس جیسی آیات اور احادیث کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا چاہیے اور ان پر ایمان رکھنا چاہیے، نہ ان کی کیفیت کو ٹٹولا جائے اور نہ ان میں تحریف و تبدیلی کی جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7412
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں