الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ»
{ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8815
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} [المدثر: 56] قَالَ ( (قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلُ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی:{أَ ہْلُ التَّقْوٰی وَأَ ہْلُ الْمَغْفِرَۃِ} … وہ اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس لائق بھی کہ وہ بخش دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، پس میرے ساتھ کوئی معبود نہ بنایا جائے اور جو میرے ساتھ معبود بنانے سے ڈر گیا تو میں اس لائق ہوں کہ اس کو بخش دوں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8815]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سھيل اخي حزم۔ أخرجه ابن ماجه: 4299، والترمذي: 3328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12469»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں آیت ِ مبارکہ کا مفہوم بیان کیا ہے، اس کا مفہوم یہی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف سھيل اخي حزم ۔ أخرجه ابن ماجه: 4299