🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ
سورۂ مرسلات {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8817
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: 50] أَوْ {وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ سورت حاصل کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہن مبارک اس کے ذریعے تر تھا،مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} کے ساتھ اس سورت کو ختم کیایا اس {وَاِذَا قِیلَ لَہُمْ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونَ} کے ساتھ۔ اتنے میں ایک سانپ ظاہر ہوا اور کسی بل میں داخل ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھا گیا اور اس کو تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8817]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1830، 4934، ومسلم: 2234، 2235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3574»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مرسلات {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ}والی آیت پر ختم ہوتی ہے، جیسا کہ متواتر قراء ت میں ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1830
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8818
وَعَنْهُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] لَيْلَةَ الْحَيَّةِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا فَطَلَبْنَاهَا فَأَعْجَزَتْنَا فَقَالَ ( (دَعُوهَا عَنْكُمْ فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات سانپ والی رات کو نازل ہوئی تھی، ہم نے کہا:اے ابوعبد الرحمن! سانپ والی رات سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے،پہاڑ سے ایک سانپ نکل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، ہم اس کے پیچھے لگے، لیکن اس نے ہمیں عاجز کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اب اسے چھوڑ دو، اللہ نے اس کو تمہارے شرسے بچا لیا اور تمہیں اس کے شر سے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8818]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4377»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4377
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں