الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِحْسانِ النِّيَّةِ عَلَى الْخَيْرِ وَمُضَاعَفَةِ الْآخِرِ بسبب ذلِكَ وَمَا جَاءَ فِي الْعَزْمِ وَالْهَمْ
خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان
حدیث نمبر: 8898
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو اس کی کی ہوئی ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کی کی ہوئی ہر برائی کو اس کی مثل ہی لکھا جاتا ہے، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جا ملتا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص في النية والعمل/حدیث: 8898]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 42، ومسلم: 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8201»
وضاحت: فوائد: … اسلام کے حسن سے مراد یہ ہے کہ وہ ظاہر و باطن سے اور اخلاص کے ساتھ اسلام میں داخل ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8899
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَةٌ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةٌ أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص في النية والعمل/حدیث: 8899]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 131، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2519»
وضاحت: فوائد: … اگر نیکی اور برائی کا یہ معیار ہو اور یقینا ہے بھی تو پھر وہی ہلاک ہو سکتا ہے، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8900
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً
۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص في النية والعمل/حدیث: 8900]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2827»
وضاحت: فوائد: … برائی کا خیال آنا اور عملی طور پر اس کا ارتکاب کرنا، اس کے کل چار مراتب ہیں:
۱۔ محض کسی چیز کا خیال آ جانا اور پھر اس خیال کا ختم ہو جانا، یہ محض انسان کا جبلی اور فطرتی خیال ہے
۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا
۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا
۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا
پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔
۱۔ محض کسی چیز کا خیال آ جانا اور پھر اس خیال کا ختم ہو جانا، یہ محض انسان کا جبلی اور فطرتی خیال ہے
۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا
۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا
۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا
پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8901
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص في النية والعمل/حدیث: 8901]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 128، 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7195»
الحكم على الحديث: صحیح