الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالطَّاعَةِ مُطْلَقًا
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8955
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ جان، پس اگر کچھ دینے کے لیے تیرے پاس کچھ نہ ہو تو اپنے بھائی کو ہنس مکھ اور کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8955]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21852»
وضاحت: فوائد: … کسی کو مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا، ہر معاشرے میں اس کو معمولی نیکی سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس معاملے میں غفلت کرنے والے زیادہ افراد نظر آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہ کیا جائے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو توشۂ آخرت تیار کیا جائے۔
سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2626
حدیث نمبر: 8956
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کروں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8956]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14447»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 15
حدیث نمبر: 8957
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا أَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا وَلَا أَعْجَبَهُ أَحَدٌ قَطُّ إِلَّا ذُو تُقًى
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دنیا کی کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ خوش نہیں کرتی تھی اور کوئی شخص بھی پسند نہیں تھا، ما سوائے پرہیزگار کے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8957]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، ابن لھيعة تفرد به، ثم ان في متنه نكارة، وان رواه عنه يحييٰ بن اسحاق وھو من قدماء اصحابه، أخرجه ابويعلي: 4552، والطبراني في الاوسط: 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24904»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزز اور پسندیدہ شخص وہی ہے جو پرہیز گار ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند بھی وہی ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف
حدیث نمبر: 8958
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس نوجوان پر تعجب کرتے ہیں، جس میں شہوات کی طرف کوئی میلان نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8958]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 853، وابويعلي: 1749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17506»
وضاحت: فوائد: … جو نوجوان امورِ خیر کا عادی ہو اور شرّ سے دور رہنے کا قوی عزم رکھتا ہو،ا س پر اللہ تعالیٰ کو تعجب ہوتاہے، حالانکہ نوجوانی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ شہوات کی طرف میلان رکھا جائے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره