الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8979
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدْوَةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} [سورة الأنعام: ٧٥] ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طَيِّبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ
۔ عبد الرحمن بن عائش ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشگوار موڈ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر سفیدی یا چمک محسوس ہو رہی تھی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج تو ہم آپ کو بڑے عمدہ موڈ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر سفیدی یا چمک بھی محسوس کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا مجھے کون سی چیز اس سے محروم کر سکتی ہے، بات یہ ہے کہ آج رات میرا ربّ سب سے خوبصورت شکل میں میرے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں نے کہا: جی میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ نے کہا: مقرب فرشتے کس موضوع پر بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، ایسے دو تین دفعہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں پر کے درمیان رکھیں، مجھے اپنے سینے میں ان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور آسمان و زمین کی ہر چیز میرے لیے واضح ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} … اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔ (سورۂ انعام: ۷۵) پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفّارات میں، اللہ تعالیٰ نے کہا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند حالتوں کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے یہ امور سر انجام دیئے، اس نے خیر کے ساتھ زندگی گزاری اور خیر کے ساتھ فوت ہوا، اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، اور درجات یہ ہیں: اچھا کلام کرنا، سلام پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! جب تم نماز پڑھو تو یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃًفِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔ … اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کو کرنے، برائیوں کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ تو مجھ پر رجوع کر اور جب تو لوگوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8979]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23597»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث ِ مبارکہ کے متن پر غور کریں اور اندازہ لگائیں کہ جن اعمال کی ہمارے معاشرے میں کوئی خاص قدر وقیمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کتنے اہم ہیں۔ دیکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ہوئی تو جہانوں کے پروردگار اور بشریت کے سردار کی باتوں کا موضوع کیا تھا، یہ کتنی پاکیزہ مجلس تھی،یہ کتنا بابرکت کلام تھا، یہ سوالات و جوابات کی کتنی عمدہ نشست تھی، سبحان اللہ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان دو احادیث میںجن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، ان کو حرزِ جان بنائیں اور ان پر دوام اختیار کریں۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 8980
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأُنَبِّئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنَ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ قَرَأَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [سورة السجدة: ١٦] الْآيَةَ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے خیر و بھلائی کے دروازوں کے بارے میں بتلاتا ہوں، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے، جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے اور رات کو بندے کا قیام کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ … }۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8980]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه و شواھده، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22484»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیہ ہے: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔} … ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (سورۂ سجدہ: ۱۶)
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه و شواھده
حدیث نمبر: 8981
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَنْتَ مُحَمَّدٌ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِلَامَ تَدْعُو قَالَ أَدْعُو إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ مَنْ إِذَا كَانَ بِكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ قَالَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ قَالَ أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا أَوْ قَالَ أَحَدًا شَكَّ الْحَكَمُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) قَالَ فَمَا سَبَبْتُ شَيْئًا بَعِيرًا وَلَا شَاةً مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزْهَدْ فِي الْمَعْرُوفِ وَلَوْ بِبَسْطِ وَجْهِكَ إِلَى أَخِيكَ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ وَأَفْرِغْ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَاتَّزِرْ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ قَالَ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ
۔ ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا،یا اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں یا آپ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس یکتا و یگانہ رب کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر تجھ پر کوئی تکلیف آ پڑے گی اور تو اس کو پکارے گا تو وہ تیری تکلیف کو دور کر دے گا، جب تو قحط سالی میں مبتلا ہو جائے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیرے لیے انگوریاں اگانے کے لیے (بارش نازل کرے گا)اور جب تو بے آب و گیاہ زمین میں اپنی سواری کھو بیٹھے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیری سواری کو واپس تیرے پاس لے آئے گا۔ پس وہ آدمی مسلمان ہو گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دینا، (یعنی برا بھلا نہ کہنا)۔ اس آدمی نے کہا: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی اس وقت سے میں نے کسی چیز، وہ اونٹ ہو یا بکری، کو گالی نہیں دی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی سے بے رغبتی اختیار نہ کر، اگرچہ وہ اپنے بھائی سے بات کرتے وقت اس کے سامنے خندہ پیشانی کا اظہار کرنے کی صورت میں ہو، پانی مانگنے کے ڈول میں پانی ڈال اور نصف پنڈلی تک اپنے ازار کو اٹھا کے رکھ، پس اگر تو اس قدر عمل نہ کر سکے تو ٹخنوں تک رکھ لے، خبردار چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچنا ہے، کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8981]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16733»
وضاحت: فوائد: … ابوداود کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَکَ وَعَیَّرَکَ بِمَا یَعْلَمُ فِیکَ فَـلَا تُعَیِّرْہُ بِمَا تَعْلَمُ فِیہِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ۔)) … اور اگر کوئی آدمی تجھے برا بھلا کہے اور تیرے کسی عیب کی وجہ سے تجھے عار دلائے تو تو نے اس کو اس عیب کی وجہ سے عار نہیں دلانی جو تو جانتا ہے، کیونکہ اس چیز کا وبال اس پر ہو گا۔
اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوا کہ چادر اور شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہی تکبر کی علامت ہے، خواہ دل میں تکبر پیدا ہو یا نہ ہو، اس لیے ہر وقت ہر مرد کو کم از کم اپنے ٹخنوں کو ننگا رکھنا چاہیے، اگر نصف پنڈلی تک رکھ لے تو افضل ہو گا۔
چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان لباس کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے اور وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ادب اس کے لیے ہے، جو تکبر کرے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، کیونکہ مرد کا ٹخنوں کو چھپانا تکبر ہی کی علامت ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں واضح کیا ہے، اس نظریہ کے حاملین سے دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام اپنے ٹخنوں کو ننگا کیوں رکھتے تھے؟ کیا ان میں تکبر پیدا ہو جانے کا شبہ پایا جاتا تھا؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوا کہ چادر اور شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہی تکبر کی علامت ہے، خواہ دل میں تکبر پیدا ہو یا نہ ہو، اس لیے ہر وقت ہر مرد کو کم از کم اپنے ٹخنوں کو ننگا رکھنا چاہیے، اگر نصف پنڈلی تک رکھ لے تو افضل ہو گا۔
چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان لباس کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے اور وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ادب اس کے لیے ہے، جو تکبر کرے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، کیونکہ مرد کا ٹخنوں کو چھپانا تکبر ہی کی علامت ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں واضح کیا ہے، اس نظریہ کے حاملین سے دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام اپنے ٹخنوں کو ننگا کیوں رکھتے تھے؟ کیا ان میں تکبر پیدا ہو جانے کا شبہ پایا جاتا تھا؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 8982
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ أَوْصِنِي فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِكَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رُوحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہ یہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8982]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 1000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11796»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف پر ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مأمورات پر عمل کیا جائے اور منہیات سے اجتناب۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 8983
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَالَ أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ وَتُعْطِيَ مَنْ مَنَعَكَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَكَ
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تو اس سے صلہ رحمی کر جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس کو دے جو تجھ کو محروم کرے اور اس سے درگزر کر جو تجھے گالیاں دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8983]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15703»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه
حدیث نمبر: 8984
عَنْ شَيْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ فَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالزَّكَاةُ وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُمْ وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَةَ يَرْوِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاحْفَظُوهُ
۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیں یہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب في الأعمال الصالحة/حدیث: 8984]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 1/ 19، وابويعلي: 4566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25634»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میںمختلف نیکیوں اور برائیوں کا ذکر ہوا ہے، قارئین الفاظ سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود سمجھ سکتے ہیں، اس لیے زیادہ شرح نہیں کی گئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فہم و عقل کی روشنی میں معمولی اور غیر معمولی حسنات و سیئات کا تعین نہ کریں، بلکہ شریعت کے تابع ہو کر زندگی گزاریں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره