🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9009
عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ قَالَ هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ قَالَ لَهُ مَرَّاتٍ قَالَ لَا قَالَ فَاسْقِ الْمَاءَ قَالَ كَيْفَ أَسْقِيهِ قَالَ اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ
۔ سیدنا عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض رضی اللہ عنہ اپنے خاندان کے ایک بندے سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر پانی پلا۔ اس نے کہا: میں کیسے پانی پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ حاضر ہوں تو پانی کے آلات کے سلسلے میں ان کو کفایت کر اور اگر وہ غائب ہوں تو اٹھا کر ان کی طرف لے جا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9009]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عياض بن مرثد مجھول، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 7/ 25، والطبراني في الكبير: 17/ 1014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23512»
وضاحت: فوائد: … والدین کے حق کو واضح کرنے اور اس میں تاکید پیدا کرنے کے لیے سوال دوہرایا گیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9010
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ قَدِمَتْ أُمِّي (وَفِي لَفْظٍ أَتَتْنِي أُمِّي) وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُمِّي قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15]
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میری ماں میرے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک تھی،یہ اس وقت کی بات ہے، جب قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آئی ہے، اسے مجھ سے کچھ تعاون کی رغبت تھی، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9010]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26915 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27454»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9011
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي فِي مُدَّةِ قُرَيْشٍ (وَفِي لَفْظٍ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمُ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) مُشْرِكَةً وَهِيَ رَاغِبَةٌ يَعْنِي مُحْتَاجَةً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ صِلِي أُمَّكِ {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15]
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میری ماں میرے پاس آئی،یہ اس مدت کی بات ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریشیوں کے درمیان معاہدہ تھا، میری ماں مشرکہ تھی اور محتاج تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہے، وہ مشرکہ ہے اور تعاون کی رغبت رکھتی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9011]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27478»
وضاحت: فوائد: … ثابت ہوا کہ اگر والدین کافر اور مشرک ہوں، تب بھی وہ اپنی اولاد کے حسن سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْم’‘ فَـلَا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا} … اور اگر وہ (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔ (سورۂ لقمان: ۱۵)
غور فرمائیں کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔ یہ آیت والدین کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27478
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9012
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَعْرَابِيًّا مَرَّ عَلَيْهِ وَهُمْ فِي طَرِيقِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ أَلَسْتَ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ قَالَ بَلَى قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَى حِمَارٍ كَانَ يَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رَاحِلَتَهُ وَعِمَامَةٍ كَانَ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ فَدَفَعَهَا إِلَى الْأَعْرَابِيِّ فَلَمَّا انْطَلَقَ قَالَ لَهُ بَعْضُنَا انْطَلَقْتَ إِلَى حِمَارِكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْتَرِيحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَتِكَ الَّتِي كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ فَأَعْطَيْتَهُمَا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ وَإِنَّمَا كَانَ يَرْضَى بِدِرْهَمٍ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ
۔ عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے کہ ایک بدّو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا اور ہم لوگ حج کے راستے میں تھے، انھوں نے اس بدّو سے کہا: کیا تم فلاں بن فلاں ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس گدھے کی طرف گئے، جس پر اونٹ کی سوار سے تھک جانے کے بعد کچھ راحت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، اور وہ پگڑی لی، جس سے اپنا سر باندھتے تھے، پھر یہ دونوں چیزیں بدّو کو دے دیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو ہم میں سے بعض افراد نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنے گدھے پر آرام کرتے تھے اور پگڑی سے سر کو باندھ لیتے تھے، لیکن اب آپ نے یہ دونوں چیز اس بدو کو دے دیہیں، اس نے تو ایک درہم پر راضی ہو جانا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کی محبت والے لوگوں سے صلہ رحمی کی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9012]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5653»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2552
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9013
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدَيْكَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ میرے مال کو اجاڑنا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والدین کا ہے، سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے اور تمہاری اولاد کے مال بھی تمہاری اپنی کمائی میں سے ہیں، لہٰذا اس کو خوشگوار انداز میں کھا لیا کرو۔ ‘ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9013]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3530، وابن ماجه: 2292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6678»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9014
(عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری اولاد تمہاری بہت پاکیزہ کمائی میں سے ہے، اس لیے اپنی اولاد کی کمائی کھا لیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9014]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24636»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ اولاد کی کمائی میں والدین کا حق ہے، لیکن اس ضمن میں درج ذیل روایت مد نظر رکھنا ضروری ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُورَ} [الشوری:۴۹] فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) … بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} (سورۂ شوری: ۴۹) وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب تمھیں ان کی ضرورت پڑے۔ (حاکم:۲/۲۸۴، بیہقی:۷/۴۸۰، صحیحہ: ۲۵۶۴)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۸۳۸)
معلوم ہو اکہ یہ جائز نہیں ہے کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا کر سکتا ہے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۶۴)

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں