الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ الترغيب فِي الإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9080
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثَهُ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے ہمسائے کے بارے میں اتنی نصیحتیں کرتا ہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا ہے کہ اس کو میرا وارث بنانے لگا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9080]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 7630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22654»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9081
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے، جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے، جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9081]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 1944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6566»
وضاحت: فوائد: … دنیا میں اپنے پڑوسیوں اور ہمسائیوں کے حق میں اچھا ثابت ہونے والے کو اللہ تعالیٰ کا پڑوس نصیب ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 9082
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ فَأَكْثِرِ الْمَرَقَةَ وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ أَوِ اقْسِمْ بَيْنَ جِيرَانِكَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر کے اپنے ہمسائیوں کا خیال رکھا کرو یا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا) اپنے ہمسائیوں کے مابین تقسیم کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9082]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21652»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2625
حدیث نمبر: 9083
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسائے کے علاوہ بندہ سیر نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9083]
تخریج الحدیث: «رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 390»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَـیْـــــًـا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرًا۔} … اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں،یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔ (سورۂ نسائ:۳۶)
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
الحكم على الحديث:
رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة