الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي اِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ وَارْشَادِ الضَّالِ
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9151
عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَدَارَتْ بِطَلَبِهِ فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا فَدَعَتْ لَهُ فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ أَيْ يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ
۔ موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں: ایک دن مریم علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو گم پایا اور ان کو تلاش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھومنے لگیں، وہ ایک جولاہے کو ملیں، لیکن اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی، پس انھوں نے اسے بد دعا دی،یہی وجہ ہے کہ تو ان کو بے قدرا دیکھتا تھا، پھر وہ ایک درزی کو ملیں، اس نے ان کی رہنمائی کی، پس انھوں نے اس کو دعا دی، اسی سبب سے تو دیکھتا ہے کہ درزی سے مانوس ہوا جاتا ہے، یعنی لوگ اس کے پاس بیٹھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9151]
تخریج الحدیث: «ھذا اثر مقطوع، وليس في السنة ما يشھد له، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23628»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بھی دراصل مسلمان کی فضیلت کا بیان ہے، جس کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا باعث ِ اجر وثواب ہے، وہ خود کتنا عظیم ہوگا۔
الحكم على الحديث:
ھذا اثر مقطوع