🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9278
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق وہ کامیاب ہو گیا، جس نے اسلام قبول کیا اور پھر اس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ دیا، اس کو اس پر قناعت کرنے والا بنا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9278]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1054، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6572»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1054
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9279
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9279]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24442»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلاَمِ، وَکَانَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنِعَ۔)) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی گزران برابر برابر تھی، لیکن اس نے اس پر قناعت کی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۳)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9280
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ وَجِلْفِ الْخُبْزِ وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَالْمَاءِ فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گھر، موٹی اور خشک روٹی اور شرمگاہ کو چھپانے والا کپڑا، جو چیز ان کے علاوہ ہے، وہ زائد ہے اور ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9280]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ولا يصح عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم، حريث بن السائب مختلف فيه، أخرجه الترمذي: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 440»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9281
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَلْبِسُهُمَا وَأَنَا مِنْ أَكْسَى أَصْحَابِي
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لباس طلب کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو موٹے سے کپڑے پہنا دیے، لیکن جب میں نے ان کو زیب ِ تین کیا تو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں میں زیادہ لباس والا میں ہی تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9281]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17806»
وضاحت: فوائد: … یعنی دوسرے صحابۂ کرام کے تن پر اتنا لباس بھی نہیں تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9282
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ قَالَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے میرے پیارے بیٹے عبد اللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لشکر میں بھیجتے تھے، ہمارا زادِ راہ صرف چمڑے کے تھیلوں میں ہوتا تھا، وہ اس طرح تقسیم کیا جاتا کہ ہر ایک کو ایک ایک لپ آتی تھی، پھر ایک ایک کھجور تک نوبت جا پہنچی۔ بیٹے نے کہا: اے ابا جان! وہ ایک کھجور تم سے کیا کفایت کرتی ہو گی؟ انھوں نے کہا: بچو! یہ بات نہ کرو، جب وہ بھی نہیں ملتی تھی تو ہمیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المسعودي اختلط،ويزيد قد سمع منه بعد الاختلاط، أخرجه البزار: 3679، وابويعلي: 7199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15780»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقَمْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَنَةً فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبُرَدُ الْمُتَفَتِّقَةُ وَإِنَّا لَيَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَهُ فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِيهِنَّ حَشَفَةٌ فَمَا سَرَّنِي أَنَّ لِي مَكَانَهَا تَمَرَةً جَيِّدَةً قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَ تَشُدُّ لِي مِنْ مَضْغِي
۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک سکونت اختیار کی، ایک دن انھوں نے مجھے کہا، جبکہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تھے: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس پھٹ جانے والی پرانی چادریں ہوتی تھیں اور ایسے دن بھی آ جاتے تھے کہ ہم کھانے کی کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے، جس کے ذریعے اپنے کمر کو کھڑا کر لیتے،یہاں تک کہ اس چیز کی نوبت آ جاتی کہ لوگ اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے پتھر اٹھا کر اپنے بھوکے پیٹ پر رکھ کر اس کو کپڑے سے کس دیتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے مابین کھجوریں تقسیم کیں، ہر انسان کو سات سات کھجوریں ملیں، ان میں خشک اور ردّی کھجوریں بھی تھیں، اور مجھے یہ بات خوش نہیں لگتی تھی کہ اس ردّی کھجور کی بجائے مجھے عمدہ کھجور ملتی، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: اس کو سختی سے چبانا پڑتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9283]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8284»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9284
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا (وَفِي رَوَايَةٍ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا تھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، لیکن آج میرے مال کی زکوۃ کی مقدار چالیس ہزار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن كعب لم يسمع من علي، وشريك النخعي سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1367»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9285
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّمَا كَانَ طَعَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَ كُمْ هَذِهِ وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ النِّمَارَ يَعْنِي بُرُودَ الْأَعْرَابِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ہوتی تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے نہ تو تمہاری اس گندم کو دیکھا تھا اور نہ جانتے تھے کہ یہ کیا ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا لباس بدوؤں والی چھوٹی چھوٹی چادریں ہوا کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9285]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 5805، والبزار: 3677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8638»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9286
عَنْ أَبِي حِسْبَةَ مُسْلِمِ بْنِ أُكَيْسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَيُفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجَلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَحَسْبُكَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ خَادِمٌ يَخْدُمُكَ وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ وَخَادِمٌ يَخْدُمُ أَهْلَكَ وَيَرِدُ عَلَيْهِمْ وَحَسْبُكَ مِنَ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ دَابَّةٌ لِرَحْلِكَ وَدَابَّةٌ لِثَقَلِكَ وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ ثُمَّ هَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدِ امْتَلَأَ رَقِيقًا وَأَنْظُرُ إِلَى مَرْبَطِي قَدِ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا
۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک آدمی ان کے پاس گیا اور ان کو روتا ہوا پایا، اس نے کہا: اے ابو عبیدہ! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان چیزوں کا ذکر کیا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتوحات اور غنیمتوں کی صورت میں عطا کرے گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کا ذکر بھی کیا اور مزید فرمایا: ابو عبیدہ! اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تین خادم تجھے کفایت کرنے چاہئیں، ایک خادم تیری خدمت کے لیے، ایک تیرے ساتھ سفر کرے کے لیے اور ایک خادم تیرے اہل خانہ کی خدمت کرنے کے لیے، جو ان کے پاس آتا جاتا رہے، اور تجھے تین سواریاں کافی ہو جانی چاہئیں، ایک تیری سواری کے لیے، ایک تیرے سامان کے لیے اور ایک سواری تیرے غلام کے لیے۔ اب توجہ کر، میں اپنے گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے اور اصطبل جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا، ان چیزوں کے ہوتے ہوئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس منہ سے ملوں گا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہے، جو مجھے اسی حالت میں ملے، جس پر میں اس کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9286]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مسلم بن اكيس مجھول، وروايته عن ابي عبيدة مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1696»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9287
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ قَالَ فَبَكَى قَالَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا هَاشِمٍ إِنَّهَا عَلَّكَ تُدْرِكَ أَمْوَالًا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ فِي جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوں کے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9287]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، شقيق بن سلمة لم يسمع ھذا الحديث من ابي ھاشم، بينھما سمرة، وھو مجھول، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15749»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا آخری جملہ وَاِنَّمَا یَکْفِیْکَ فِی جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاِنِّی اُرَانِی قَدْ جَمَعْتُ۔ (صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔) شواہد کی بنا پر حسن ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں