الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَكَارِهِ مُطْلَقًا وَفَضْل ذلِكَ
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9358
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن جس درد و تکلیف، تعب و تکان، رنج و غم اور ملال و نقصان میں مبتلا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا، جو اس کو چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ اس کی خطائیں معاف کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9358]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرجه البزار: 3260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8014»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم
حدیث نمبر: 9359
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فِي الدُّنْيَا يَحْتَسِبُهَا إِلَّا قُصِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مؤمن کو دنیا میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس وجہ سے قیامت کے دن اس کی خطائیں کم کی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9359]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9208»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9360
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وَصَبٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا حُزْنٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کو تکان، تھکاوٹ، غم، بیماری، تکلیف یا پریشان کر دینے والا کوئی غم لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کو اس کی برائیوں کا کفارہ بناتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11020»
وضاحت: فوائد: … بیماری ایک غیر اختیاری چیز ہے، بندہ بغیر کسی ذاتی دخل کے اس میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔
بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2573
حدیث نمبر: 9361
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ وَهُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ وَيَرْزُقُهُمْ
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی نہیں ہے، جو سنی ہوئی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت زیادہ صبر کرنے والا ہو، بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس کے لیے اولاد کر دعویٰ کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19866»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2804
حدیث نمبر: 9362
عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَةً لَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَنَا وَاسْتَنْصِرْهُ قَالَ فَاحْمَرَّ لَوْنُهُ أَوْ تَغَيَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ حُفْرَةٌ وَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ
۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سرخ ہو گیایا تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آری لائی گئی اور ان کے سروں پر رکھ کر ان کو چیر دیا گیا، لیکن یہ تکلیف بھی ان کو دین سے باز نہ رکھ سکی اور لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت نوچ لیا گیا، لیکن یہ چیز بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، اور ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے یمن تک سفر کرے گا، لیکن اس کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو گا، یا اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا ڈر ہو گا، لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9362]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3852، ومسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21371»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر! اللہ ہمارے حالات پر رحم کرے اور ہمیں اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کتنی اذیتوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کی اپیل کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3852
حدیث نمبر: 9363
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو جو مصیبت بھی لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بناتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9363]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5640، ومسلم: 2572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25339»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5640
حدیث نمبر: 9364
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِيئَتِهِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مسلمان جس کو کانٹا چبھے یا اس سے بڑی تکلیف پہنچے، مگر اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9364]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24615»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24615
حدیث نمبر: 9365
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) مِثْلُهُ وَفِيهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَكُفِّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9365]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24658»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24658