الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَرْضِ الصَّرْعِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9378
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا لَمَمٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي قَالَ ( (إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكِ وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ) ) قَالَتْ بَلْ أَصْبِرُ وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، جو جنونی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے شفا عطا کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتی ہے کہ میرے تیری شفا کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو ٹھیک ہے اور اگر تو چاہتی ہے کہ اس پر صبر کرے اور پھر اس کے عوض تجھ پر کوئی حساب ہی نہ ہو۔ اس نے کہا: جی ٹھیک ہے، میں صبر کروں گی اور اس کے عوض مجھ پر حساب نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9378]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 2909، والبزار: 772، والحاكم: 4/ 218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9687»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 9379
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ ( (إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ) ) قَالَتْ بَلْ أَصْبِرُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي قَالَ فَدَعَا لَهَا
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا: کیا میں تجھے جنتی خاتون دکھاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ سیاہ فام عورت ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: مجھے مرگی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور اس وجہ سے میں ننگی بھی ہو جاتی ہوں، اس لیے آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتی ہے تو صبر کر لے اور تجھے جنت مل جائے گی اور اگر تو چاہتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے تیری عافیت کے لیے دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی میں صبر کروں گی، لیکن آپ اللہ تعالیٰ سےیہ دعا تو کر دیں کہ میں ننگا نہ ہو جایا کروں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ دعا کر دی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9379]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5652، ومسلم: 2576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3240»
وضاحت: فوائد: … چونکہ بے ہوشی کے وقت ننگا ہو جانے کا آزمائش سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے صحابیہ نے اس کی دعا کروا لی اور شفا کی دعا نہ کروائی، تاکہ آخرت کا معاملہ آسان ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5652