الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9412
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9412]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11122»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9413
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ وَقَالَ يُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ حَتَّى يَجِيءَ أَبَوَانَا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَقُولُونَ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9413]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 4/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10630»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 9414
عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ تُوُفِّيَ ابْنَانِ لِي فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ يُطَيِّبُ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنَفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9414]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10336»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2635
حدیث نمبر: 9415
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِكُلِّنَا قَالَ بَلْ لِكُلِّكُمْ
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایک ا ٓدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9415]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 4/ 22، 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20636»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9416
عَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَّبَهُ وَدَبَّ وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا أَرَى فُلَانًا) ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا فُلَانُ أَتُحِبُّ لَوْ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ الْآنَ كَانَ شَطِيَ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَجْرَى الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ أَوْ يُقَالَ لَكَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ) )
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟ [الفتح الربانی/حدیث: 9416]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15937»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 9417
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ قَالَ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ ( (يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ رضی اللہ عنہ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13283»
وضاحت: فوائد: … اس خاتون کا مقصد رونا اور نوحہ کرنا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: اِجْتَھَدْتُّ عَلَیْہِ فِیْ الْبُکَائِ۔ … میں اس پر رونے میں کوشش کروں گی۔ امام خطابی نے کہا: چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو اس کے دعوے پر برقرار رکھا، اس لیے اس حدیث سے اس طرح کے رونے کا جواز ملتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ واقعہ نوحہ کی حرمت سے پہلے کا ہے، کیونکہ غزوۂ احد کے بعد نوحہ کو حرام قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2598